برہان پور کی تاریخی روایت: رمضان میں افطار کی روشنی

مدھیہ پردیش کے تاریخی شہر برہان پور میں رمضان المبارک کے دوران ایک منفرد اور صدیوں پرانی روایت آج بھی زندہ ہے۔ شہر کے روزہ دار، شاہی جامع مسجد کے مینار پر روشن چراغ دیکھ کر افطار کا آغاز کرتے ہیں، جو تقریباً 400 سال پرانی روایت ہے۔
برہان پور کے حکمران عادل شاہ فاروقی نے 1585 میں سیاہ پتھر سے جامع مسجد تعمیر کروائی، جس میں دو مینار 125 فٹ بلند ہیں۔ 1960 کی دہائی میں روزہ توڑنے کا وقت توپ یا پٹاخوں کے ذریعے بتایا جاتا تھا، جسے مقامی زبان میں “گج کنڈی” کہا جاتا ہے۔ 1974 میں روشنیوں کا سلسلہ شروع ہوا اور 1980 میں دونوں میناروں پر مستقل روشنیوں کا انتظام کیا گیا۔ تب سے شہر کے لوگ اسی روشنی کو افطار کا اشارہ سمجھتے ہیں۔
مینار کی روشنی شہر کے مختلف حصوں سے دیکھی جا سکتی ہے، اور دور دراز بستیوں میں رہنے والے لوگ بھی اسی روشنی کے ذریعے افطار کرتے ہیں، جہاں اذان کی آواز نہیں پہنچ پاتی۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں، حالانکہ موبائل فون اور ایپس سحری و افطار کے اوقات بتاتی ہیں، برہان پور کے لوگ اس صدیوں پرانی روایت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
مورخین کے مطابق یہ روشنی عید کی آمد کی نوید بھی دیتی ہے، اور جیسے ہی عید کا چاند نظر آتا ہے، جامع مسجد کے مینار پر چراغ روشن کیے جاتے ہیں۔ رمضان کے دوران مینار کی روشنی نہ صرف عبادت کی علامت ہے بلکہ شہر کے لوگوں کے لیے خوشی اور اتحاد کا پیغام بھی پہنچاتی ہے۔








