برطانوی جامعات نے پاکستانی اور بنگلادیشی طلبہ کے داخلے عارضی طور پر روک دیے

برطانیہ کی متعدد یونیورسٹیوں نے پاکستان اور بنگلادیش کے طلبہ کے لیے داخلوں کا عمل وقتی طور پر معطل کر دیا ہے، جس کے باعث دونوں ملکوں کے طالب علموں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق کم از کم نو برطانوی جامعات نے اس فیصلے پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ ان اداروں میں یونیورسٹی آف چیسٹر، یونیورسٹی آف وولورہیمپٹن، یونیورسٹی آف ایسٹ لندن، یونیورسٹی آف سنڈر لینڈ اور کوونٹری یونیورسٹی سمیت کئی دیگر شامل ہیں۔
جامعات کی جانب سے یہ اقدام اس پس منظر میں اٹھایا گیا ہے کہ حالیہ عرصے میں ان دونوں ممالک سے آنے والے طلبہ کی جانب سے سیاسی پناہ کے حصول کی درخواستوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کچھ دیگر برطانوی ادارے بھی پاکستانی اور بنگلادیشی طلبہ کے داخلہ معیار اور طریقہ کار پر نظرِ ثانی کر رہے ہیں۔
برطانیہ کی وزیر برائے بارڈر سکیورٹی اینجلا ایگل نے بیان میں کہا کہ طلبہ کے ویزا کو ملک میں مستقل رہائش حاصل کرنے کے لیے “بیک ڈور” کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ گزشتہ سال پاکستان سے سب سے زیادہ اسائلم کی درخواستیں جمع کرائی گئیں۔









