
لاہور ہائیکورٹ
شہری کو دو مقدمات میں رہائی کے بعد شہری کو تیسرے جھوٹے کیس میں گرفتار کرنے پر لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
*عدالت نے ڈی پی او قصور کو متعلقہ پولیس افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کردی*
جسٹس اسجد جاوید گھرال نے شاہدہ بی بی کی درخواست 12 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا
*بد قسمتی ہے کہ گزشتہ کچھ برسوں میں شاید ہی کوئی دن پولیس کی سفاکیت کے بغیر گزرتا ہو، فیصلہ*
شاہدہ بی بی نے پولیس کے خلاف شوہر محمد لطیف کو غیر قانونی حراست میں رکھنے کی درخواست دائر کی، فیصلہ
عدالت نے ملزم کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تو پولیس نے اس کے خلاف جھوٹے شواہد گھڑے، فیصلہ
تفتیشی افسر نہ ہائیکورٹ کی کاروائی کو خراب کرنے کے لیے مجسٹریٹ سے ملزم کا جوڈیشل ریمانڈ لیا، فیصلہ
ایس ایچ او نے عدالت میں جھوٹی رپورٹ جمع کروائی، فیصلہ
*پولیس رپورٹ کے مطابق، پولیس نے ملزم کے جیل میں ہونے کے وقت اس سے اشیا برآمد کیں، فیصلہ*
*پولیس نے کوئی وضاحت نہیں کی کہ ملزم کی گرفتاری جیل ریکارڈ میں کیوں موجود نہیں؟ فیصلہ*
یہ ایک متفقہ قانون ہے کہ اگر کوئی شخص ایک کیس میں گرفتار ہے تو اس پر درج تمام مقدمات کی تفتیش کی جائے، فیصلہ
پولیس ایک کیس میں گرفتاری ڈالتی، ریمانڈ مکمل ہونے پر یا رہا ہونے پر کسی دوسرے کیس میں گرفتار کر لیتی،فیصلہ
پولیس افسران نے ملزم کو سبق سکھانے کے لیے دوسرے کیس میں ملوث کر لیا، فیصلہ
ڈی پی او قصور، دونوں پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کریں، فیصلہ
اس بات پر سب متفق ہیں کہ، کسی شخص کے خلاف محض معلومات اسے ملزم نہیں بنا دیتی، فیصلہ
کسی شخص کے خلاف معلومات ملنے پر، پولیس سیدھا اسے گرفتار نہ کرے،
اگر تفتیش کے زریعے کسی شخص کے خلاف، مناسب مواد حاصل ہوتا ہے تو پھر اسے گرفتار کیا جائے، فیصلہ
پولیس نے اپنی طرف سے ملزم سے اعتراف جرم کروایا، جس کی عدالت میں کوئی حیثیت نہیں، فیصلہ
بد قسمتی سے، علاقہ میجسٹریٹ نے بھی، کیس کو سمجھے بغیر، ملزم کا جوڈیشل ریمانڈ منظور کر لیا، فیصلہ
عدالت 10 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ملزم کی ضمانت منظور کرتی ہے، فیصلہ
اگر گرفتاری ضروری ہے مگر کسی وجہ سے نہیں ہو پائی تو تفتیشی افسر، میجسٹریٹ کے سامنے گرفتاری نہ ہو پانے کی وجوہات بیان کرے، فیصلہ
علاقہ میجسٹریٹ، محض تفتیشی افسر کی درخواست کی بجائے، ریکارڈ کو دیکھ کر ریمانڈ منظور کرے، فیصلہ
علاقہ میجسٹریٹ کے مطابق، اگر ملزم کے خلاف مناسب مواد موجود نہیں ہے تو وہ اس کی گرفتاری کو موخر کر دے، فیصلہ









