بدتمیز انداز میں سوال پوچھنے سے چیٹ جی پی ٹی کے جوابات زیادہ درست، تحقیق

0
164
بدتمیز انداز میں سوال پوچھنے سے چیٹ جی پی ٹی کے جوابات زیادہ درست، تحقیق

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اگر چیٹ جی پی ٹی جیسے مصنوعی ذہانت (آرٹی فیشل انٹیلیجنس) ماڈلز سے سخت یا بدتمیز لہجے میں سوال کیا جائے تو وہ زیادہ درست اور بہتر جوابات فراہم کرتے ہیں۔

امریکی ریاست پینسلوانیا کی پین اسٹیٹ یونیورسٹی کے محققین نے جی پی ٹی فور او (GPT-4o) ماڈل پر ڈھائی سو سے زائد مختلف پرامپٹس آزما کر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سوال کے انداز سے جوابات کی درستگی میں نمایاں فرق آتا ہے۔

تحقیق کے مطابق، جب اے آئی سے جارحانہ انداز میں کہا گیا جیسے “ارے، یہ حل کرو!” تو ماڈل کی درستگی تقریباً چوراسی اعشاریہ آٹھ فیصد رہی، جو مؤدبانہ انداز والے سوالات کے مقابلے میں تقریباً چار فیصد زیادہ تھی۔

پروفیسر آکھیل کمار، جو تحقیق کے شریک مصنف ہیں، کا کہنا ہے کہ یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ اے آئی ماڈلز انسانوں کے لہجے اور سوال کے انداز سے متاثر ہوتے ہیں، اور معمولی تبدیلیاں بھی جواب کے معیار پر اثر ڈال سکتی ہیں۔

تاہم محققین نے خبردار کیا کہ بدتمیز انداز کو عام کرنے سے منفی سماجی رویوں کو فروغ مل سکتا ہے اور اے آئی کے ساتھ مؤدب اور شمولیتی گفتگو کے اصول متاثر ہو سکتے ہیں۔

یہ مطالعہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ اے آئی سے بات کرتے وقت صرف سوال کا مواد نہیں بلکہ لہجہ اور اندازِ بیان بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

Leave a reply