ایٹمی ہتھیاروں کی نئی دوڑ کا خدشہ بڑھنے لگا

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ چین نے جون 2020 میں اپنی ایٹمی تجربہ گاہ لوپ نور میں ممکنہ طور پر ایک خفیہ زیر زمین دھماکا کیا تھا۔ ان کے مطابق قازقستان میں نصب زلزلہ پیما آلات نے اس مقام کے قریب 2.75 شدت کا جھٹکا ریکارڈ کیا، جس کے بارے میں کہا گیا کہ اس کی نوعیت عام زلزلے یا روایتی دھماکے سے مختلف ہو سکتی ہے۔
یہ بیان واشنگٹن میں ایک تقریب کے دوران دیا گیا، جہاں امریکی عہدیدار نے کہا کہ دستیاب ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد اس امکان کو رد کرنا مشکل ہے کہ یہ کوئی غیر معمولی واقعہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جھٹکے کی نوعیت ایٹمی تجربے سے ملتی جلتی دکھائی دیتی ہے۔
دوسری جانب عالمی سطح پر ایٹمی دھماکوں کی نگرانی کرنے والے ادارے (سی ٹی بی ٹی او) نے محتاط ردعمل دیا ہے۔ ادارے کے سربراہ کے مطابق متعلقہ دن دو معمولی جھٹکے ضرور ریکارڈ ہوئے، تاہم ان کی شدت اتنی کم تھی کہ انہیں حتمی طور پر ایٹمی دھماکا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اس کے سسٹمز عام طور پر ایک مخصوص حد سے زیادہ شدت والے واقعات کی واضح نشاندہی کر سکتے ہیں، جبکہ زیرِ بحث جھٹکے اس حد سے کم تھے۔
چین نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی نوعیت کا قرار دیا ہے۔ واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے کہا کہ یہ دعوے بے بنیاد ہیں اور ان کا مقصد بین الاقوامی سطح پر دباؤ بڑھانا ہے۔ چین کا موقف ہے کہ وہ ایٹمی تجربات پر پابندی کے عالمی اصولوں کی پاسداری کرتا ہے اور اس نے آخری بار 1996 میں باضابطہ ایٹمی تجربہ کیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان اسلحہ کنٹرول سے متعلق معاہدوں پر کشیدگی پائی جاتی ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں چین کو ایک ممکنہ نئے سہ فریقی ایٹمی معاہدے میں شامل کرنے کی بات کی گئی تھی، تاہم چین نے اپنے محدود ایٹمی ذخیرے کا حوالہ دیتے ہوئے اس میں شمولیت سے گریز کیا۔
ادھر امریکی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ چین تیزی سے اپنے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد میں اضافہ کر رہا ہے، جس سے عالمی سطح پر اسلحے کی نئی دوڑ کے خدشات جنم لے رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی دعوے کی حتمی تصدیق کے لیے آزاد اور سائنسی شواہد ضروری ہوتے ہیں، اور موجودہ معاملے میں ابھی تک کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔









