
ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نیا موڑ آیا ہے کیونکہ ایلون مسک نے اپنی کمپنی ایکس اے آئی کے ذریعے نیا آن لائن انسائیکلوپیڈیا، گروکی پیڈیا، باضابطہ طور پر متعارف کروا دیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم وکیپیڈیا کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، لیکن یہاں مضامین انسانی رضاکاروں کے بجائے اے آئی ماڈل کے ذریعے تیار اور اپ ڈیٹ کیے جاتے ہیں۔
گروکی پیڈیا میں تقریباً 9,000 مضامین موجود ہیں جو گروک لینگویج ماڈل کی طاقت پر مبنی ہیں۔ اس پلیٹ فارم کا مقصد زیادہ درست، جدید اور خودکار معلومات فراہم کرنا ہے، جبکہ انسانی فیڈبیک کے ذریعے مواد کی تصحیح بھی ممکن ہے۔ صارفین براہِ راست مضامین کو ایڈٹ نہیں کر سکتے، لیکن وہ تجاویز اور اصلاحات بھیج سکتے ہیں، جو ماڈل کی تعلیم اور بہتری میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
ہر مضمون خودکار طور پر اپ ڈیٹ ہوتا ہے اور صفحے پر موجود “فیکٹ چیکڈ بائی گروک” ٹائم اسٹیمپ سے مواد کی تازگی ظاہر کی جاتی ہے۔ گروک ماڈل کی تربیت کے دوران انسانی تاثرات اور فیڈبیک کو شامل کیا گیا ہے، جس کی بنیاد پر گروکی پیڈیا کے مضامین تیار کیے جاتے ہیں۔
مسک کے مطابق یہ ہائبرڈ نظام نہ صرف مضامین کو تیز رفتاری سے اپ ڈیٹ کرتا ہے بلکہ انسانی تصحیح کی مدد سے درستگی اور اعتماد بھی بڑھاتا ہے۔ اگرچہ پلیٹ فارم زیادہ خودکار ہے، اس پر اے آئی پر انحصار کے باعث کچھ تجزیہ کار درستگی اور ممکنہ تعصب کے حوالے سے سوالات اٹھا رہے ہیں۔
گروکی پیڈیا کا مقصد معلومات کو اوپن سورس، جدید اور کم نظریاتی جھکاؤ کے ساتھ پیش کرنا ہے، تاکہ صارفین کو ایک آزاد اور قابل اعتماد متبادل فراہم کیا جا سکے۔









