ایس ایچ او عوام کا خادم، سرکاری زبان میں بڑی تبدیلی کا اعلان

0
62
ایس ایچ او عوام کا خادم، سرکاری زبان میں بڑی تبدیلی کا اعلان

سپریم کورٹ نے پولیس نظام میں استعمال ہونے والی روایتی اور نوآبادیاتی زبان کو ختم کرنے کا اہم فیصلہ جاری کر دیا ہے، جس کے تحت اب اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کو درخواستوں میں “بخدمت جناب” لکھنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا، جو ٹنڈوغلام علی کے ایک پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر سے متعلق کیس میں سامنے آیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایس ایچ او عوام کا خادم ہے، عوام اس کے ماتحت نہیں، اس لیے اب صرف “جناب ایس ایچ او” لکھا جائے گا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ایف آئی آر درج کروانے والے شہری کو اب “اطلاع دہندہ” کہا جائے گا، نہ کہ شکایت کنندہ۔ عدالت کے مطابق “کمپلیننٹ” کی اصطلاح صرف نجی فوجداری شکایات تک محدود رہے گی۔
سپریم کورٹ نے پولیس کارروائی میں “فریادی” کا لفظ استعمال کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ یہ لفظ رحم کی درخواست کا تاثر دیتا ہے، جبکہ شہری اپنا قانونی حق استعمال کرتا ہے، کوئی احسان نہیں مانگتا۔
عدالت نے ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے پولیس افسران کو سخت تنبیہ کی اور کہا کہ غیر ضروری تاخیر پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 201 کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔ فیصلے میں نشاندہی کی گئی کہ ایف آئی آر میں تاخیر سے شواہد ضائع ہونے کا شدید خدشہ ہوتا ہے، اور یہ رجحان سندھ میں نسبتاً زیادہ پایا جاتا ہے۔
سپریم کورٹ نے پراسیکیوٹر جنرل سندھ کو ہدایت دی ہے کہ وہ گزشتہ دو برسوں میں سنگین جرائم کے مقدمات میں ایف آئی آر کے اندراج کی اوسط تاخیر پر مشتمل رپورٹ ایک ماہ کے اندر جمع کرائیں۔ یہ رپورٹ کراچی برانچ رجسٹری کے انچارج افسر کے پاس جمع کروائی جائے گی۔
فیصلے میں مزید حکم دیا گیا کہ سندھ بھر کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز ججز اس بات کو یقینی بنائیں کہ ماتحت عدالتوں میں مقدمات کی سماعت کے دوران “فریادی” کی اصطلاح استعمال نہ ہو۔ رجسٹرار آفس کو یہ فیصلہ رہنمائی اور عملدرآمد کے لیے پاکستان کی تمام ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں کو ارسال کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔

Leave a reply