
ایزی پیسہ صارفین اب دنیا بھر کے 100 سے زائد ممالک سے ترسیلاتِ زر براہِ راست اپنے ایزی پیسہ اکاؤنٹس میں وصول کر سکتے ہیں، جبکہ 100 سے زیادہ عالمی کرنسیوں میں سرحد پار ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت بھی فراہم کر دی گئی ہے۔
ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک نے اپنے ڈیجیٹل بینکنگ آپریشنز کے ایک سال مکمل ہونے پر اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں اسٹیک ہولڈرز کے اعزاز میں خصوصی عشائیے کا اہتمام کیا۔ اس تقریب میں وفاقی وزرا، پالیسی سازوں، ریگولیٹرز، کاروباری شخصیات اور میڈیا نمائندگان نے شرکت کی۔
تقریب کی میزبانی ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کے بورڈ چیئرمین عرفان وہاب خان، اینٹ انٹرنیشنل کے صدر ڈگلس فیگن اور ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کے صدر و چیف ایگزیکٹو آفیسر جہانزیب خان نے کی۔
مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے اپنے خطاب میں ایزی پیسہ کو ڈیجیٹل بینک کے طور پر ایک سال مکمل کرنے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور وزیراعظم کی ہدایات کے تحت اس شعبے میں عملی اور مربوط اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ مؤثر پالیسی سازی کے لیے ڈیجیٹل فنانس کے ماہرین کی شمولیت ناگزیر ہے، جبکہ کیش لیس معیشت کے حقیقی فوائد سے عوام کو آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کے مطابق، سال 2025 کے دوران ایزی پیسہ پلیٹ فارم پر 3.8 ارب سے زائد مالی لین دین مکمل کیے گئے، جن کی مجموعی مالیت 15 کھرب روپے سے زیادہ رہی۔








