ایران کی صورتحال پر امریکا کی نظر، تشدد ہوا تو کارروائی ہو سکتی ہے

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کی موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر وہاں شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تو امریکا ردِعمل دے سکتا ہے، تاہم اس کا مطلب فوجی کارروائی نہیں ہوگا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ایرانی قیادت نے طویل عرصے سے اپنے عوام کے ساتھ سخت رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اب عوام کی جانب سے ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت ایک مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے اور بعض شہروں میں عوامی کنٹرول کی اطلاعات بھی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کی ممکنہ مداخلت کا مقصد فوج اتارنا نہیں بلکہ صورتحال پر اثرانداز ہونا ہو سکتا ہے۔
ایک اور موقع پر صدر ٹرمپ نے پاک بھارت کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں سے پاکستان اور بھارت سمیت متعدد تنازعات رک سکے۔ ان کے بقول پاک بھارت کشیدگی کے دوران دونوں جانب سے طیارے گرائے گئے اور اس بحران کے خاتمے سے لاکھوں جانیں بچیں۔ صدر ٹرمپ کے مطابق پاکستانی وزیراعظم نے بھی ان کوششوں کو سراہا۔









