ایران نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کے حق کا مطالبہ کردیا

ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنی شرائط میں ایک اہم نکتہ شامل کیا ہے: تہران چاہتا ہے کہ عالمی برادری آبنائے ہرمز پر اس کی مکمل خودمختاری تسلیم کرے۔ یہ گزرگاہ دنیا میں تیل اور ایل این جی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے، اور حالیہ واقعات نے اس کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران نے عملی طور پر اس سمندری راستے پر کنٹرول ظاہر کر دیا ہے۔ جہاز رانی اب بڑی حد تک ایران کی ہدایات کے مطابق ہو رہی ہے، اور کئی ممالک ایران سے رابطہ کر کے اپنے جہازوں کے لیے محفوظ راستہ حاصل کر رہے ہیں۔
سی این این کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ خطے میں عدم استحکام امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، اور اسی لیے جہازوں کے لیے ایرانی بحریہ کے ساتھ رابطہ ضروری ہے تاکہ سیکیورٹی برقرار رکھی جا سکے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کے بجائے ایک کنٹرولڈ ایکسس ماڈل اپنایا ہے، جس میں غیر دشمن ممالک کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان کے جہاز روزانہ گزر سکتے ہیں، جسے علاقائی تعاون کے لیے مثبت اقدام قرار دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران نے اس بحران کے دوران اپنی جغرافیائی حیثیت کو ایک اسٹریٹجک ہتھیار میں تبدیل کر لیا ہے۔ اب تہران جہازوں سے فیس وصول کر کے اربوں ڈالر کی سالانہ آمدنی حاصل کرنے کا امکان دیکھ رہا ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ اگر اس پر پابندیاں لگائی جائیں اور تیل کی برآمدات روکی جائیں، تو اسے بھی حق حاصل ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی دباؤ کا جواب دے۔ زمینی حقائق بھی ایران کے حق میں نظر آتے ہیں، کیونکہ عالمی شپنگ انڈسٹری اب تہران کی پالیسیوں کے مطابق چل رہی ہے اور کئی جہاز مخصوص راستوں سے گزر رہے ہیں۔









