ایرانی سپریم لیڈر کے مبینہ فرار منصوبے کی خبروں پر تہران کا سخت ردعمل

0
95
ایرانی سپریم لیڈر کے مبینہ فرار منصوبے کی خبروں پر تہران کا سخت ردعمل

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی اقدام کے خدشات کے تناظر میں ایرانی قیادت سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں سامنے آ رہی ہیں۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہنگامی حالات کی صورت میں ایران کی اعلیٰ قیادت نے متبادل حکمتِ عملی پر غور کر رکھا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر ملک کے اندر سیکیورٹی صورتحال بگڑ جائے، عوامی احتجاج قابو سے باہر ہو جائے یا سیکیورٹی اداروں کی وفاداری متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہو، تو ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای اپنے قریبی رفقا، اہلِ خانہ اور بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے ہمراہ ایران سے باہر جا سکتے ہیں، اور ممکنہ طور پر ماسکو ان کا عارضی ٹھکانہ ہو سکتا ہے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق اس منصوبے کو کسی فوری فیصلے کے طور پر نہیں بلکہ ایک احتیاطی اور ہنگامی آپشن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاکہ غیر معمولی حالات میں قیادت کے پاس متبادل راستہ موجود ہو۔ تاہم رپورٹ میں اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی کہ اس ضمن میں کوئی عملی قدم اٹھایا جا چکا ہے۔
دوسری طرف پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر سے متعلق گردش کرنے والی اطلاعات من گھڑت اور گمراہ کن ہیں۔
ایرانی سفیر کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای ایرانی عوام اور ملک کے مضبوط سیکیورٹی نظام کے ساتھ کھڑے ہیں، اور ایسی افواہوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد غلط معلومات پھیلا کر ابہام پیدا کرنا ہے۔
رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر نہ صرف ایک پُرعزم رہنما ہیں بلکہ مسلح افواج کے اعلیٰ کمانڈر کی حیثیت سے قومی سلامتی اور دفاعی امور میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل دور میں جعلی خبروں اور معلوماتی جنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی تشویش ظاہر کی۔
ایرانی سفیر نے اپنے مؤقف کے ساتھ سپریم لیڈر کی ایک تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ اسلحہ تھامے دکھائی دے رہے ہیں، جسے انہوں نے قیادت کے عزم اور استقامت کی علامت قرار دیا۔

Leave a reply