اڈیالہ جیل سے مزید تصاویروائرل : حقیقت یا ڈیجیٹل فریب؟

0
110
اڈیالہ جیل سے مزید تصاویروائرل : حقیقت یا ڈیجیٹل فریب؟

پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں ورزش کرتے ہوئے ایک تصویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، جس پر صارفین کی جانب سے مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ تصویر میں عمران خان کو پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں ورزش کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد یہ بحث شروع ہو گئی کہ آیا تصویر حقیقی ہے یا مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی ہے۔

عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اس تصویر کو حقیقی قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ یہ کسی اے آئی ٹول سے تیار نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ ابتدا میں انہیں خود بھی شبہ ہوا تھا، جس کے بعد انہوں نے تصویر کی تصدیق کے لیے چند قریبی افراد سے رجوع کیا۔ تصدیق کے بعد انہیں یقین ہو گیا کہ تصویر واقعی عمران خان کی ہے، کیونکہ وہ انہیں قریب سے جانتی ہیں۔

علیمہ خان کے مطابق یہ تصویر قیدِ تنہائی سے پہلے کی ہے اور غالب امکان ہے کہ یہ گرمیوں کے دوران لی گئی ہو، جس کا اندازہ تصویر میں پسینے سے ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان تصویر میں بالکل ویسے ہی نظر آ رہے ہیں جیسے وہ حقیقت میں ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ عمران خان اس وقت اڈیالہ جیل میں اکیلے سیل میں قید ہیں، تاہم انہوں نے قید کے باوجود اپنی ورزش کا معمول برقرار رکھا ہوا ہے۔ علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے اپنی زندگی میں دو چیزوں کو کبھی ترک نہیں کیا، ایک اللہ پر ایمان اور دوسری ورزش۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر بعض صارفین اس تصویر کو مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ قرار دے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی امریکہ کے صدر وقار خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ تصویر اصل نہیں لگتی کیونکہ عمران خان کا وزن پہلے کے مقابلے میں کافی کم ہو چکا ہے، اور عوامی بے چینی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس تصویر کو حقیقی قرار دے کر پھیلایا جا رہا ہے۔

خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے صحافی کامران علی نے بھی دعویٰ کیا کہ یہ تصویر گوگل اے آئی کے ذریعے تیار کی گئی ہے۔ ان کے مطابق اگر تصویر کو گوگل امیج میں اپلوڈ کر کے “About this image” آپشن استعمال کیا جائے تو وہاں اے آئی سے بننے کا عندیہ ملتا ہے۔

اس دوران سوشل میڈیا پر عمران خان کی مزید تصاویر اور ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں۔ ایک تصویر میں انہیں پل اپس کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ایک ویڈیو میں وہ ٹریڈ مل پر دوڑتے نظر آ رہے ہیں۔ بعض دیگر تصاویر میں انہیں کان پکڑ کر اٹھک بیٹھک کرتے اور جیل کے سیل میں شلوار قمیض میں بیٹھے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ان تمام تصاویر کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ملے جلے ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ صارفین انہیں حقیقی قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر کا مؤقف ہے کہ یہ تصاویر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی ہیں۔ تاہم، ان اضافی تصاویر اور ویڈیوز کے بارے میں عمران خان کے اہلِ خانہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

Leave a reply