اپوزیشن کا 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف ملک گیر تحریک کا اعلان

0
120
اپوزیشن کا 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف ملک گیر تحریک کا اعلان

اسلام آباد — اپوزیشن اتحاد نے مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف پورے ملک میں احتجاجی مہم چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے تحت پی ٹی آئی کے نامزد قومی اسمبلی و سینیٹ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں نامزد اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس نے ہفتے کو مشترکہ پریس کانفرنس میں یہ حکمتِ عملی جاری کی اور کہا کہ احتجاجات اسی رات سے شروع ہو جائیں گے۔

پریس کانفرنس میں علامہ ناصر عباس نے کہا کہ آئینی تبدیلیاں ملک کو خطرناک موڑ پر لاسکتی ہیں اور موجودہ اقدامات جمہوری اداروں کو کمزور کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ مجوزہ ترمیم سے طاقتور عناصر کو مزید مراعات ملیں گی اور اس کے خلاف قوم کو متحرک ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عوام ایک آواز بن کر اس تبدیلی کی مخالفت کرے گی اور احتجاجات رات ساڑھے آٹھ بجے سے شروع ہو جائیں گے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آئین ریاست اور عوام کے درمیان ایک معاہدہ ہے جس کا احترام لازمی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کے تحفظ کیلئے انہیں بار بار عہد لیا گیا اور اب جب آئین کی بنیادوں کو ہلانے کی کوششیں ہو رہی ہیں تو عوامی سطح پر مزاحمت کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی ادارے اپنے اصلی، متحرک کردار سے ہٹ کر محض بحثی فورم بنتے جا رہے ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے اپیل کی کہ ملک کے وطن دوست سیاسی جماعتیں، شخصیات اور گروہ احتجاجی مہم میں شامل ہوں اور آئین کی بالادستی کے لیے متحد ہوں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ عوامی ناراضگی عروج پر ہے اور اسی غم و غصے کو منظم انداز میں سامنے لایا جائے گا۔

پریس کانفرنس میں اپوزیشن نے تین بنیادی نعرے تجویز کیے: جمہوریت کی پاسداری، آمریت کی نفی، اور قیدیوں کی رہائی کے مطالبات۔ رہنماؤں نے بتایا کہ احتجاجات کے دوران ہر دن مختلف قومی نعرے اور مطالبات عوام تک پہنچائے جائیں گے تاکہ تحریک منظم اور پرامن رہے۔

اپوزیشن رہنماؤں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد آئین اور پارلیمنٹ کی طاقت بحال کرنا ہے اور وہ پرامن و قانونی انداز میں عوامی شرکت کے ذریعے اپنے پیغام کو stronger بنائیں گے۔ انہوں نے انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں سے اپیل کی کہ احتجاج پر تحمل سے نمٹا جائے اور عام شہریوں کے جانی و مالی تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

حکومت کی جانب سے اس اعلان پر ابھی تک باقاعدہ جواب موصول نہیں ہوا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ملحقہ جماعتوں کی شمولیت اور احتجاجی دائرہ کار آنے والے دنوں میں اس تحریک کی نوعیت طے کرے گا۔

Leave a reply