“اندرونی دستاویزات نے دنیا کے سب سے بڑے پلیٹ فارم کا پردہ فاش کر دیا”

0
112
“اندرونی دستاویزات نے دنیا کے سب سے بڑے پلیٹ فارم کا پردہ فاش کر دیا”

امریکہ میں دائر ایک مقدمے کے دوران سامنے آیا ہے کہ میٹا نے اپنی تحقیقات روک دی، جن میں یہ پایا گیا تھا کہ فیس بک اور انسٹاگرام صارفین کی ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ کمپنی نے خود کیے گئے تجربات میں یہ نتیجہ حاصل کیا کہ چند دن کے لیے ان پلیٹ فارمز سے دور رہنے والے صارفین زیادہ ذہنی سکون اور کم دباؤ محسوس کرتے ہیں۔ تاہم یہ تحقیقات عوام کے سامنے آنے سے پہلے ہی روکی گئی۔

دستاویزات میں مزید انکشاف ہوا کہ میٹا کے اعلیٰ عہدیداروں کو بھی تحقیق کے نتائج درست بتائے گئے، اور اس صورتحال کا موازنہ بعض محققین نے تمباکو کی صنعت کے ماضی سے کیا، جہاں مضر اثرات کے باوجود عوام کو آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

مقدمے میں میٹا کے علاوہ گوگل، ٹک ٹاک اور اسنیپ چیٹ پر بھی الزامات عائد کیے گئے ہیں کہ یہ پلیٹ فارم کم عمر صارفین کی آن لائن مصروفیت بڑھانے کے لیے ایسے اقدامات کرتے ہیں جو بچوں کی حفاظت کو ثانوی حیثیت دیتے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق ٹک ٹاک نے بچوں کے حقوق کی تنظیموں کو اپنے حق میں بیانیہ مضبوط کرنے کے لیے مالی مدد بھی پیش کی۔ اسی طرح، میٹا نے حفاظتی فیچرز کو اس طرح ڈیزائن کیا کہ وہ کم استعمال ہوں اور بعض تجربات بھی روک دیے گئے تاکہ صارفین پلیٹ فارم پر زیادہ وقت گزاریں۔

ان دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا کہ بچوں کی حفاظت کے حوالے سے ترجیحات میں فرق تھا، اور ایک موقع پر مارک زکربرگ نے اندرونی پیغام میں میٹا ورس کی ترقی کو آن لائن حفاظت پر ترجیح دی۔

میٹا نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقدمے میں پیش کیے گئے اقتباسات سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے گئے ہیں اور کمپنی نوجوان صارفین کی حفاظت کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔

عدالتی کارروائی آنے والے مہینوں میں سوشل میڈیا کمپنیوں کی سماجی ذمہ داری اور صارفین کی حفاظت اور کاروباری مفادات کے درمیان توازن کے حوالے سے اہم بحث کو جنم دے سکتی ہے۔

Leave a reply