امریکی محکمہ خارجہ کی نئی ٹریول ایڈوائزری، لاہور اور کراچی سے غیر ضروری عملے کی واپسی کی ہدایت

0
47
امریکی محکمہ خارجہ کی نئی ٹریول ایڈوائزری، لاہور اور کراچی سے غیر ضروری عملے کی واپسی کی ہدایت

امریکی محکمہ خارجہ نے 3 مارچ 2026 کو جاری کردہ نئی ٹریول ایڈوائزری میں اعلان کیا ہے کہ لاہور اور کراچی میں قائم امریکی قونصل خانوں سے غیر ضروری سرکاری عملہ اور ان کے اہل خانہ پاکستان چھوڑ دیں۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے، تاہم اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ 28 فروری کو امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے بعد خطے میں ڈرون اور میزائل حملوں کا خطرہ بدستور موجود ہے، جس سے کمرشل پروازوں کا نظام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں احتیاطی اقدامات ضروری سمجھے گئے ہیں۔
محکمہ خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا خطرہ برقرار ہے۔ بیان کے مطابق شدت پسند گروہ مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے رہے ہیں، جن میں خاص طور پر بلوچستان اور خیبرپختونخوا شامل ہیں، تاہم ماضی میں کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں بھی واقعات پیش آ چکے ہیں۔
ایڈوائزری میں ممکنہ اہداف کے طور پر ٹرانسپورٹ مراکز، ہوٹل، مارکیٹیں، شاپنگ مالز، فوجی تنصیبات، ایئرپورٹس، تعلیمی ادارے، عبادت گاہیں اور سرکاری عمارتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
مظاہروں کے حوالے سے بھی تنبیہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان میں بغیر اجازت احتجاج یا مظاہرہ قانوناً ممنوع ہے، اور ایسے اجتماعات کے قریب موجودگی سکیورٹی اداروں کی توجہ کا باعث بن سکتی ہے۔ امریکی شہریوں کو سوشل میڈیا پر حکومت یا فوج کے خلاف سمجھے جانے والے مواد کی اشاعت سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں گرفتاری کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ احتجاج کے دوران انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس کی بندش کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
جرائم کے بارے میں بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی کی صورتحال اچانک تبدیل ہو سکتی ہے ، شہروں میں حفاظتی انتظامات نسبتاً بہتر  ہیں۔
امریکی حکومت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں تعینات اس کے اہلکاروں کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد ہیں۔ بعض علاقوں میں سفر کے دوران مسلح سکیورٹی اور بکتر بند گاڑیوں کا استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے باہر سفر کے لیے خصوصی اجازت درکار ہوتی ہے۔ کچھ علاقوں میں قونصلر خدمات بھی محدود ہیں۔
ایڈوائزری کے مطابق بلوچستان اور خیبرپختونخوا کو لیول فور یعنی انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے ان علاقوں کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی اور اغوا کا خطرہ زیادہ ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں شدت پسند گروہ سرگرم ہیں۔ لائن آف کنٹرول کے قریب علاقوں میں بھی مسلح تصادم کے خدشے کے باعث سفر سے منع کیا گیا ہے۔
امریکی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ پاکستان کا سفر کرنے کی صورت میں مقامی خبروں پر نظر رکھیں، ہجوم اور مظاہروں سے دور رہیں، قیمتی اشیا کی نمائش سے گریز کریں اور ہنگامی حالات کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کریں۔
مزید برآں، شہریوں کو اسمارٹ ٹریولر انرولمنٹ پروگرام میں رجسٹریشن کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں سفارتی عملہ ان سے فوری رابطہ کر سکے۔

Leave a reply