امریکی فوج ایران کے خلاف کون سےجدید ہتھیار استعمال کر رہی ہے

0
50
امریکی فوج ایران کے خلاف کون سےجدید ہتھیار استعمال کر رہی ہے

امریکی سینٹرل کمانڈ نے حال ہی میں ان ہتھیاروں کی تفصیلات جاری کی ہیں جو ایران کے خلاف حالیہ حملوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔
ان کے مطابق فضائی کارروائیوں میں بی-2 اسٹیلتھ بمبار طیارے مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ طیارے ایٹمی اور روایتی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور حالیہ مشن میں میزوری سے ایران تک 34 گھنٹے کی پرواز کر کے بیلسٹک میزائل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
اس کے علاوہ، جنگ میں پہلی بار لوکس ڈرونز بھی استعمال کیے گئے ہیں، جو ایرانی ڈرونز کے ڈیزائن کی تقلید کرتے ہیں اور کم لاگت پر تیار کیے جا سکتے ہیں۔
بحری قوت کے طور پر دو طیارہ بردار بحری جہاز، یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس جیرالڈ آڑ فورڈ، خطے میں تعینات ہیں۔ ’ارلے برک‘ کلاس کے ڈسٹرائیرز ٹوما ہاک میزائل فائر کر رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے بھیجے گئے ڈرونز اور میزائلوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پیٹریاٹ اور تھاڈ دفاعی نظام استعمال ہو رہے ہیں۔
فضائی کارروائیوں میں ایف-22، ایف-35، ایف-16 اور ایف/اے-18 طیارے حصہ لے رہے ہیں۔ ٹینک شکن اے-10 طیارے بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ ای اے-18 جی گراؤلر الیکٹرانک وارفیئر کے لیے استعمال ہو رہا ہے تاکہ دشمن کے ریڈار اور مواصلات کو جام کیا جا سکے۔
ایویکس طیارے فضا میں ریڈار اسٹیشن کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں، جبکہ آر سی-135 طیارے جاسوسی اور انٹیلی جنس جمع کر رہے ہیں۔ ایم کیو-9 ریپر ڈرونز اہم اہداف کونشانہ بنانے اور نگرانی کیلیے استعمال ہورہےہیں۔
ہائیمارس راکٹ سسٹمز ’فائر کرو اور بھاگو‘ کی حکمت عملی کے تحت استعمال ہو رہے ہیں اور ان کی رینج 300 میل سے زائد ہے۔ طیاروں کو فضائی ایندھن فراہم کرنے کے لیے کے سی-135 اور کے سی-46 فضائی آئل ٹینکرز استعمال ہو رہے ہیں۔
مزید برآں، سی-17 اور سی-130 کارگو طیاروں کے ذریعے بھاری اسلحہ اور فوج مشرق وسطیٰ منتقل کی جا رہی ہے تاکہ خطے میں آپریشن کی استعداد کو بڑھایا جا سکے۔

Leave a reply