امریکی خاتون کی فلسطینی بچے پر تشدد کی انتہا

ہاٹ لائن نیوز : فلسطین میں جہاں اسرائیلی حکومت اور فوج کی جانب سے انسانیت سوز اقدامات کیے جا رہے ہیں وہیں اب اس حوالے سے ایک امریکی خاتون کی تصویر بھی وائرل ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکی خاتون کو فلسطینی بچے کو قتل کرنے کی کوشش مہنگی پڑ گئی، امریکی سوشل میڈیا پر خاتون کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست ٹیکساس میں فلسطینی نژاد امریکی بچے کو تالاب میں ڈبونے کی کوشش امریکی خاتون الزبتھ وولف کو مہنگی پڑ گئی۔
42 سالہ خاتون الزبتھ نے مبینہ طور پر حجاب کرنے والی خاتون سے رابطہ کیا، جہاں اس نے حجاب کرنے والی خاتون سے پوچھا کہ کیا 6 سالہ لڑکا اور 3 سالہ لڑکی اس کے بچے ہیں، اور پھر نسل پرستانہ ریمارکس دیے۔
امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق خاتون نے 6 سالہ بچے کو ڈبونے کی کوشش کی جس کے بعد بچہ خود کو چھڑانے میں کامیاب ہوگیا۔ جس کے بعد خاتون نے 3 سالہ بچی کو ڈبونے کی کوشش کی۔
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا سمیت قومی حلقوں میں خاتون کے خلاف گونج اٹھی جب کہ صدر جو بائیڈن نے بھی ردعمل میں کہا کہ کسی بچے پر تشدد نہیں ہونا چاہیے جب کہ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے پر ان کا دل ٹوٹا ہے۔









