امریکہ کی چین پر 100 فیصد ٹیرف کی تیاری، عالمی تجارتی کشیدگی میں اضافہ

واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ چین سے درآمد کی جانے والی تمام مصنوعات پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں ایک بار پھر تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر ایک پیغام میں کہا کہ یہ فیصلہ چین کی جانب سے نایاب معدنیات پر برآمدی پابندیاں عائد کرنے کے ردعمل میں کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی محصولات یکم نومبر سے لاگو ہو سکتی ہیں۔
چین حال ہی میں ان دھاتوں کی برآمد پر کنٹرول کی بات کر رہا ہے جو جدید ٹیکنالوجی، الیکٹرک گاڑیوں، ہوائی جہازوں اور دفاعی نظام میں استعمال ہوتی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ان دھاتوں پر پابندیاں عائد ہونے سے عالمی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ نے اس کے ساتھ ساتھ چینی ٹیکنالوجی کے شعبے کو نشانہ بناتے ہوئے امریکی سافٹ ویئرز اور طیارہ ساز اجزاء کی برآمد پر بھی ممکنہ پابندیوں کا عندیہ دیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد چین کے مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ جیسے شعبوں کو محدود کرنا ہے۔
چینی مصنوعات پر پہلے ہی تقریباً 30 فیصد ٹیرف عائد ہیں، اور تازہ فیصلے کے بعد مارکیٹوں میں بے یقینی کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ امریکی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی سے مندی دیکھی گئی، اور ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں دو فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔
دوسری جانب چین کی جانب سے تاحال اس تازہ اعلان پر کوئی براہ راست ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں وہ امریکہ کی یکطرفہ تجارتی پابندیوں کو تنقید کا نشانہ بناتا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر یہ پالیسی نافذ ہوئی تو عالمی تجارتی ماحول مزید غیر مستحکم ہو سکتا ہے، اور اس کے اثرات نہ صرف امریکہ اور چین بلکہ پوری عالمی معیشت پر مرتب ہوں گے۔









