امریکہ میں صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف وسیع احتجاجی مظاہرے

0
61
امریکہ میں صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف وسیع احتجاجی مظاہرے

امریکہ کے کئی بڑے شہروں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں، جو ’نو کنگز‘ کے عنوان سے منعقد کی گئیں۔ یہ احتجاج گزشتہ کچھ ماہ میں تیسری بار ہوا ہے اور منتظمین کے مطابق اس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کی متعدد پالیسیوں جیسے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی، سخت امیگریشن قوانین اور بڑھتی مہنگائی کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ ایک بیان میں احتجاجی رہنماؤں نے کہا کہ ’ٹرمپ ہمیں ایک بادشاہ کی طرح کنٹرول کرنا چاہتے ہیں، لیکن طاقت عوام کے ہاتھ میں ہے، نہ کہ کسی خود ساختہ بادشاہ یا امیر طبقے کے پاس۔‘
وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے مظاہروں کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے طنزیہ انداز میں ’ٹرمپ ڈیرینجمنٹ تھراپی سیشنز‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ ریلیاں زیادہ تر میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ہیں۔
نیویارک، واشنگٹن ڈی سی، لاس اینجلس سمیت دیگر شہروں میں ہزاروں افراد نے سڑکوں پر نکل کر ریلیاں نکالیں۔ واشنگٹن میں مظاہرین لنکن میموریل کی سیڑھیوں پر جمع ہوئے اور نیشنل مال تک مارچ کیا۔ اس دوران ٹرمپ اور دیگر حکومتی عہدیداروں کے پتلے بھی اٹھائے گئے۔
مینیسوٹا میں ایک بڑی ریلی میں ہزاروں افراد شریک ہوئے، جہاں جنوری میں وفاقی امیگریشن اہلکاروں کے ہاتھوں دو امریکی شہریوں کی ہلاکت کے بعد پہلے ہی عوامی غم و غصہ موجود تھا۔ اس ریلی میں کئی ڈیموکریٹ رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ معروف گلوکار بروس اسپرنگسٹین نے بھی اپنے احتجاجی گانے ’اسٹریٹس آف منیاپولس‘ کی پرفارمنس دی۔
نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں بھی ہزاروں افراد نے مارچ کیا جس کے باعث پولیس نے کچھ سڑکیں بند کر دی۔ رپورٹس کے مطابق اس بار ملک بھر میں مظاہروں میں مجموعی طور پر تقریباً ستر لاکھ افراد شریک ہوئے۔
امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے مینیسوٹا میں کہا کہ ایران کے خلاف جنگ فوری طور پر روکنی چاہیے کیونکہ یہ غیر آئینی اور عالمی قوانین کے منافی ہے۔ کانگریس رکن الہان عمر نے بھی ایران کے ساتھ جاری کشیدگی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے بھی اسی موقف کی حمایت کرتے ہوئے جنگ بندی اور حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی کا مطالبہ کیا۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران 13 امریکی فوجی ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جس نے عوامی ناراضگی میں اضافہ کیا۔
ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ اقدامات ملک کے مفاد میں ضروری ہیں۔ صدر ٹرمپ نے خود کو ’بادشاہ‘ کہلوانے کے الزامات مسترد کیے اور کہا کہ وہ صرف ملک کی بھلائی کے لیے کام کر رہے ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کے بعض فیصلے آئین کے منافی ہیں اور امریکی جمہوریت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
مظاہرے نہ صرف بڑے شہروں بلکہ چھوٹے قصبوں اور بیرون ملک بھی ہوئے، جہاں امریکی شہریوں نے پیرس، لندن اور لزبن میں ٹرمپ کے خلاف ریلیاں نکالیں اور ان کے مواخذے کا مطالبہ کیا۔
یہ احتجاج ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ میں سیاسی تقسیم گہری ہو چکی ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں پر عوامی ردعمل شدت اختیار کر رہا ہے۔

Leave a reply