امریکا کی روس پر نئی پابندیاں، یوکرین جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھ گیا

0
56
امریکا کی روس پر نئی پابندیاں، یوکرین جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھ گیا

امریکا نے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے روس پر دباؤ بڑھاتے ہوئے روس کی دو بڑی تیل کمپنیوں روسنیفٹ اور لوک آئل پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سیکرٹری جنرل کے ہمراہ اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا کہ یہ اقدام روس کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ “آج ایک اہم دن ہے، روس کی دو بڑی توانائی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جو اس بات کا عندیہ ہے کہ آئندہ ہم کس سمت میں جا رہے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ “روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بائیڈن دور میں شروع ہوئی تھی، اور میں اسے ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ امید ہے کہ یہ پابندیاں صدر پیوٹن کو مذاکرات اور امن کی طرف راغب کریں گی۔”

ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے صدر پیوٹن سے ملاقات منسوخ کر دی ہے کیونکہ انہیں اس وقت یہ ملاقات “مناسب” نہیں لگی۔

امریکی صدر کے مطابق، یوکرین جنگ تقریباً چار سال سے جاری ہے اور اس میں ہزاروں جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں فریق امن کی طرف بڑھیں، ہم بھی جنگ بندی چاہتے ہیں، اور اس حوالے سے چین کے صدر شی جن پنگ سے بات کریں گے۔”

ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں ایک بار پھر عالمی سطح پر تنازعات کے خاتمے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ “ہم نے مشرقِ وسطیٰ اور پاک-بھارت سمیت سات بڑی جنگیں رکوا چکے ہیں، اور امید ہے کہ روس یوکرین تنازع بھی جلد ختم ہو جائے گا۔”

Leave a reply