امریکا میں مزید 20 ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیاں، نفاذ یکم جنوری سے

امریکی حکومت نے نئی سفری پالیسی کے تحت مزید 20 ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جن کا اطلاق یکم جنوری سے ہوگا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس فیصلے کے تحت طلبہ، امریکی شہریوں کے اہلِ خانہ اور افغان اسپیشل امیگرینٹ ویزا رکھنے والے افراد بھی متاثر ہوں گے۔ مکمل پابندی کی زد میں شام، جنوبی سوڈان، نائجر، مالی اور برکینا فاسو شامل ہیں، جبکہ وہ افراد بھی متاثر ہوں گے جن کی سفری دستاویزات فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے جاری کی گئی ہوں۔
جزوی پابندیوں کا سامنا کرنے والے ممالک میں انگولا، انٹیگوا و باربوڈا، بنین، آئیوری کوسٹ، ڈومینیکا، گبون، گیمبیا، ملاوی، موریطانیہ، نائجیر، سینیگال، تنزانیہ، ٹونگا، زیمبیا اور زمبابوے شامل ہیں۔
اس سے قبل جون میں افغانستان سمیت 12 ممالک کے شہریوں پر پابندیاں عائد کی جاچکی تھیں۔ حالیہ فیصلے کے بعد سفری پابندیوں سے متاثرہ ممالک کی مجموعی تعداد 35 ہوگئی ہے، جبکہ اطلاعات کے مطابق مزید 15 ممالک کے شہریوں پر بھی پابندیوں پر غور کیا جارہا ہے، جن میں اکثریت افریقی ممالک کی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ایسے غیر ملکی افراد کے داخلے کو روکنا ہے جو امریکا کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔









