امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، آبنائے ہرمز میں فوجی مشقوں کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا کا ایک بحری بیڑہ ایران کے قریب تعینات کیا جا رہا ہے، جبکہ واشنگٹن اب بھی اس بات کا خواہاں ہے کہ تہران کسی معاہدے پر آمادگی ظاہر کرے۔ صدر ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران خطاب میں دعویٰ کیا کہ جون میں ایران کی جوہری صلاحیت کو مؤثر طور پر ناکارہ بنایا گیا اور اس کارروائی میں کسی شہری کو نقصان نہیں پہنچا۔
ان کے مطابق امریکی فوجی اقدامات محدود اور مخصوص اہداف تک رہے، جن کا مقصد صرف سکیورٹی خدشات کو کم کرنا تھا، نہ کہ وسیع پیمانے پر تصادم۔
دوسری جانب ایران نے امریکی سرگرمیوں کے ردعمل میں آبنائے ہرمز میں فوجی مشقیں کرنے کا اعلان کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام نے ان مشقوں کے باعث فضائی حدود سے متعلق نوٹس ٹو ایئر مین (نوٹم) جاری کر دیا ہے، جس میں پچیس ہزار فٹ سے کم بلندی پر پروازوں پر عارضی پابندی عائد کی گئی ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ مشقیں محدود بحری علاقے میں کی جائیں گی اور ان کا مقصد دفاعی تیاریوں کا عملی جائزہ لینا ہے۔
ادھر پاسدارانِ انقلاب نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی بحری جہاز ایرانی سمندری حدود میں داخل ہوئے تو انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔ ان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ صرف بیانات سے جنگ یا امن کا فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ اصل صورتحال کا تعین عملی میدان میں ہوتا ہے۔









