اقتدار سے اوبر تک: قاسم سوری کی حیران کن کہانی

0
106
اقتدار سے اوبر تک: قاسم سوری کی حیران کن کہانی

پاکستان کی قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر اور پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما قاسم خان سوری نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اس وقت امریکا میں آن لائن ٹیکسی سروس اوبر چلا کر اپنے اور اہلِ خانہ کے اخراجات پورے کر رہے ہیں۔
ایک حالیہ گفتگو کے دوران قاسم سوری کا کہنا تھا کہ پاکستان چھوڑنے کے بعد انہیں شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور زندگی نے انہیں ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا جس کا انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ ان کے مطابق، انہوں نے مشکل حالات کے باوجود کسی غیر قانونی یا غلط راستے کو اختیار کرنے کے بجائے محنت اور دیانت داری سے روزی کمانے کو ترجیح دی۔
قاسم سوری نے واضح کیا کہ وہ آج بھی عمران خان کے نظریے سے وابستہ ہیں اور خود کو ان کی سوچ کا سپاہی سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں جاری حالات، مبینہ ناانصافیاں اور سیاسی دباؤ ان مشکلات کا پس منظر ہیں جن سے وہ اس وقت گزر رہے ہیں، جبکہ عمران خان اور ان کے اہلِ خانہ کو درپیش قانونی مسائل بھی ان کے لیے باعثِ تشویش ہیں۔
انہوں نے اپنے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ وفاقی دارالحکومت میں ایک اہم سرکاری ادارے میں ذمہ دار عہدے پر فائز رہے، تاہم انہوں نے کبھی اپنے عہدے کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال نہیں کیا۔ ان کے مطابق، وہ ہمیشہ ایک متوسط طبقے کے فرد رہے ہیں اور ایمانداری کو ہی اپنی پہچان بنایا۔
قاسم سوری نے یہ بھی بتایا کہ 2018 سے قبل وہ کوئٹہ میں اپنے گھر پر عمران خان اور ڈاکٹر عارف علوی سمیت کئی اہم سیاسی شخصیات کی میزبانی کرتے رہے ہیں، جو ان کی سیاسی وابستگی اور جدوجہد کا ثبوت ہے۔
سابق صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے بھی قاسم سوری کی جدوجہد کو سراہتے ہوئے سوشل میڈیا پر ان کے حق میں پیغام جاری کیا۔ ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے دوست پر فخر ہے جو قومی اسمبلی کے اعلیٰ عہدے پر فائز رہنے کے باوجود آج امریکا میں باعزت طریقے سے محنت کر کے روزی کما رہے ہیں۔
سابق صدر کے مطابق، قاسم سوری نے آسائشوں کے لیے اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا بلکہ حلال کمائی کو ترجیح دی، جو ان کے مضبوط کردار اور حوصلے کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کی قیادت کا ایک بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے متوسط طبقے سے ایسے لوگ آگے لائے جو کرپشن کا حصہ بنے بغیر مشکل وقت میں بھی اپنے نظریے پر قائم رہے۔

Leave a reply