اسلام کی عالمگیریت: نبی ﷺ کے زمانے سے ہندوستان تک پیغام

0
24
اسلام کی عالمگیریت: نبی ﷺ کے زمانے سے ہندوستان تک پیغام

اسلام کی برصغیر میں آمد کی تاریخ کا ایک اہم باب ریاست کیرالہ کے شہر کوڈُنگَلور میں واقع تاریخی عبادت گاہ ”چیرامن جمعہ مسجد“ سے منسلک ہے، جسے روایتی طور پر ہندوستان کی پہلی مسجد قرار دیا جاتا ہے۔
مقامی روایات کے مطابق اس مسجد کی بنیاد 629 عیسوی میں رکھی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا پس منظر اُس وقت کے مقامی حکمران چرمن پرومل کے قبولِ اسلام سے جڑا ہوا ہے۔ روایت میں بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے چاند کے شق ہونے کا واقعہ دیکھا اور عرب تاجروں سے اس کی بابت دریافت کیا۔ بعد ازاں وہ عرب گئے، اسلام قبول کیا اور اپنے علاقے میں مسجد تعمیر کرنے کی ہدایت دی۔ بعض روایات کے مطابق ان کا انتقال واپسی سے قبل ہوا اور انہوں نے خطوط کے ذریعے مقامی حکمرانوں کو مسجد کی تعمیر میں تعاون کی تلقین کی۔
تاریخی بیانات میں بزرگ عالم مالک بن دینار کا نام نمایاں طور پر آتا ہے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عرب سے کیرالہ پہنچے اور ساحلی علاقوں میں اسلام کی تبلیغ کے ساتھ مساجد کے قیام میں کردار ادا کیا۔
اس روایت کا ذکر مختلف تاریخی کتب میں ملتا ہے، جن میں تحفة المجاہدین، الاصابہ فی تمییز الصحابہ اور مالابار مینوئل شامل ہیں۔ جدید مؤرخین اس واقعے کو زیادہ تر مقامی تاریخی روایت کے طور پر بیان کرتے ہیں اور تعمیر کے حتمی سن پر تحقیق جاری ہے۔
کوڈُنگَلور قدیم بندرگاہ ’موزِرِس‘ کے قریب واقع تھا، جو صدیوں تک عالمی تجارت کا مرکز رہا۔ عرب تاجر یہاں آتے تھے اور تجارتی روابط کے ساتھ مذہبی و ثقافتی اثرات بھی چھوڑتے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ کیرالہ کو برصغیر میں اسلام کے اولین تعارف کا خطہ سمجھا جاتا ہے۔
چیرامن جمعہ مسجد صدیوں سے قائم ہے اور مختلف ادوار میں اس کی مرمت اور توسیع ہوتی رہی۔ 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں اس میں گنبد اور مینار شامل کیے گئے، تاہم 2022 میں بحالی کے کام کے دوران قدیم طرزِ تعمیر کو نمایاں کرنے کے لیے جدید اضافے ہٹا دیے گئے۔ اس مقام کو ریاستی سطح پر ثقافتی ورثے کے طور پر محفوظ کیا جا رہا ہے۔
کیرالہ کے مسلمان، جو تاریخی طور پر ’مپیلا‘ کہلاتے ہیں، اس خطے کی تجارت، ثقافت اور سماجی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ چیرامن جمعہ مسجد آج بھی نہ صرف ایک فعال عبادت گاہ ہے بلکہ مذہبی ہم آہنگی اور تاریخی ورثے کی علامت کے طور پر بھی دیکھی جاتی ہے، جہاں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد بھی سیاحتی اور ثقافتی دلچسپی کے تحت آتے ہیں۔
یہ مسجد برصغیر میں اسلام کی قدیم تاریخ اور عرب و ہند کے تاریخی تعلقات کی ایک اہم یادگار سمجھی جاتی ہے، جس پر تحقیق اور مکالمہ آج بھی جاری ہے۔

Leave a reply