
وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور امریکا نے اپنے اتحادیوں سمیت لبنان اور دیگر محاذوں پر فوری جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے، جس کا اطلاق فوراً ہو گیا ہے۔ اس پیش رفت کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم نے دونوں ممالک کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے مدعو کیا، جہاں دیرپا امن کے لیے بات چیت کی جائے گی۔
اپنے بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ فریقین نے دانشمندی اور تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن کو موقع دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ مذاکرات خطے میں مستقل استحکام کا باعث بنیں گے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی جنگ بندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قیادت، خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف اور عاصم منیر کی درخواست پر ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ جنگ بندی اس شرط سے مشروط ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے محفوظ بنائے گا۔
ایرانی حکام نے بھی اس معاہدے کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل اور نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اس کی منظوری دے دی ہے۔ ایران نے اس پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
ادھر اسرائیل نے بھی امن عمل میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے اور دو ہفتوں کے لیے اپنی بمباری روکنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ جنگ بندی اگر برقرار رہی تو خطے میں ایک بڑے تصادم کے خطرے کو ٹالنے میں مدد مل سکتی ہے۔









