
اسلامی نظریاتی کونسل نے اعلان کیا ہے کہ کوئی بھی خاتون اپنے شوہر کے غائب ہونے کے دو سال بعد عدالت سے نکاح فسخ کرانے کے لیے رجوع کر سکتی ہے۔
روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق کونسل نے نکاح فسخ کے قوانین کا جائزہ لیا اور صنفی مساوات سے متعلق خصوصی کمیٹی کی تجاویز سے اصولی طور پر اتفاق کر لیا۔
کونسل کے فیصلے کے مطابق، اگر شوہر غائب ہو جائے تو خاتون دو سال بعد، اور اگر شوہر قید میں ہو تو تین سال بعد نکاح فسخ کے لیے عدالت سے رجوع کر سکتی ہے۔
مزید برآں، کونسل نے کہا ہے کہ اگر شوہر حق زوجیت ادا کرنے کے قابل نہ ہو، یا ذہنی بیماری، کینسر یا دیگر شدید طبی مسائل میں مبتلا ہو، تو ایسی صورت میں ایک سال انتظار کے بعد بھی نکاح فسخ کے لیے درخواست دی جا سکتی ہے۔









