اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملوں میں اضافہ، قم میں فضائی حملے میں 6 شہید

عالمی ذرائع کے مطابق، ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کی شدت میں حالیہ دنوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایرانی شہر قم میں ہونے والے فضائی حملوں میں چھ افرادشہید اور متعدد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ تہران میں کئی عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں اور ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
اسرائیلی فوج نے قم میں تین رہائشی گھروں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔ ہلالِ احمر کے مطابق، تہران میں بھی فضائی حملوں سے کئی عمارتیں متاثر ہوئی ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی آرمی چیف ایال زمیر کی ایک لیک ہونے والی آڈیو میں بتایا گیا کہ طویل فوجی آپریشنز کے بعد اسرائیلی فوج بریکنگ پوائنٹ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فوری بھرتیوں، لازمی خدمت کی مدت میں اضافہ اور ریزرو فورس میں اصلاحات نہ کی گئیں تو فوج اندرونی طور پر کمزور ہو سکتی ہے۔
سابق وزیراعظم نفتالی بینٹ کے مطابق، ملک کو 20 ہزار فوجیوں کی کمی کا سامنا ہے جو جاری آپریشنز کے لیے بڑا چیلنج ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک جانب مذاکرات کے اشارے دئیے جا رہے ہیں تو دوسری جانب ایران پر حملوں کی رفتار میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں مزید دس ہزار زمینی فوجی بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔
امریکی سینٹ کام نے سوشل میڈیا پر تازہ حملوں کی فوٹیج جاری کی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران میں آپریشن ’’ایپک فیوری‘‘ کے تحت ہزاروں اہداف پر حملے کیے جا چکے ہیں۔









