اسرائیلی وزیر بن گویر کا فلوٹیلا شرکاء سے متعلق سخت رویہ، جیل میں دہشت گردوں جیسا سلوک

تل ابیب: اسرائیل کے سخت گیر قومی سلامتی کے وزیر اتمر بن گویر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ غزہ کی جانب امداد لے جانے والے فلوٹیلا قافلے کے شرکاء کو جیل میں رکھا گیا ہے، اور ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جا رہا ہے جو اسرائیل میں زیر حراست فلسطینی قیدیوں کے ساتھ ہوتا ہے۔
بن گویر نے جمعے کے روز کیتسعیوت جیل سے ایک ویڈیو جاری کی، جس میں انہوں نے کہا: “جیسا کہ میں نے وعدہ کیا تھا، فلوٹیلا کے شرکاء اب سکیورٹی جیل میں ہیں، ان کے کپڑے بھی دہشت گردوں جیسے ہیں اور سہولتیں بھی کم سے کم فراہم کی جا رہی ہیں۔”
ویڈیو میں دیکھا گیا کہ فلوٹیلا کے کئی کارکنان نے جیل کے احاطے میں فلسطین کے حق میں نعرے بھی لگائے، جس پر بن گویر نے انہیں “دہشت گردوں کے حامی” قرار دیا۔
ایک اور ویڈیو بیان میں اسرائیلی وزیر نے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کارکنوں کو جلدی ملک بدر کر دیا گیا تو وہ دوبارہ آئیں گے۔ بن گویر نے مطالبہ کیا کہ ان افراد کو کم از کم چند ماہ کے لیے اسرائیلی جیل میں رکھا جائے۔
یاد رہے کہ رواں ہفتے اسرائیلی بحریہ نے غزہ کی جانب امداد لے جانے والی 42 کشتیوں کو روکتے ہوئے تقریباً 470 کارکنوں کو حراست میں لیا تھا۔ اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے مطابق اب تک چار افراد کو ملک بدر کیا جا چکا ہے جبکہ باقیوں کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔









