اسرائیلی فوجیوں نےمزید جنگ نہ کرنےکی دھمکی دےدی

ہاٹ لائن نیوز : ایک غیر مسلح فلسطینی نوجوان کو قتل کرنے کا خیال اسرائیلی فوجی افسر یوتم ولک کو ستاتا ہے۔ یوتم ولک کے مطابق انہیں ہدایت کی گئی تھی کہ وہ غزہ کے کسی محدود علاقے میں بغیر اجازت کے داخل ہونے والے کو گولی مار دیں۔ اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے کم از کم 12 فلسطینیوں کو قتل ہوتے دیکھا۔
رپورٹ کیمطابق یوتم ولک نے کہا کہ میری طرح بہت سے اسرائیلی فوجی غزہ میں 15 ماہ سے جاری لڑائی کیخلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ وہ یہ کہتے ہوئے لڑائی جاری رکھنے سے انکار کر رہے ہیں کہ انہوں نے ایسی چیزیں دیکھی یا کی ہیں جو ان کی اخلاقی اقدار کیخلاف ہیں۔ یوتم ولک نے کہا کہ تقریباً 200 اسرائیلی فوجیوں نے ایک خط پر دستخط کیے جس میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا، انہوں نے مزید کہا کہ انکا خیال ہے کہ یہ صرف شروعات ہے۔
رپورٹ کیمطابق اسرائیلی فوجی افسر یوتم ولک نے خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینیوں کے غیر ضروری قتل اور گھروں کی تباہی کو دیکھا۔ چونکا دینےوالی بات یہ ہے کہ انکو ایسے گھروں کو جلانے یا گرانے کا حکم دیا گیا جن سے کوئی خطرہ نہیں تھا، اور انہوں نے ساتھی فوجیوں کو گھروں کو لوٹتے اور توڑ پھوڑ کرتے ہوئےدیکھا۔









