اتر پردیش: غریب کسان کی اہلیہ کی دیانتداری نے سب کے دل جیت لیے

اتر پردیش کے ضلع مین پوری میں ایک عام خاتون نے اپنی غیر معمولی ایمانداری کی بدولت سب کے دل جیت لیے ہیں۔
دیو گنج گاؤں کی رہائشی ریتا، جو پیشے سے کسان پارس بھن کی اہلیہ ہیں، کے بینک اکاؤنٹ میں بینک کی تکنیکی خرابی کے سبب اچانک تقریباً 10 کروڑ روپے منتقل ہو گئے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ریتا نے ایک روپیہ بھی استعمال نہیں کیا اور فوراً بینک حکام کو اطلاع دی تاکہ رقم واپس کر دی جائے۔
نوراتری کے موقع پر رقم نکلوانے کے لیے بینک جانے والی ریتا کو بینک بند ہونے کی وجہ سے قریبی اے ٹی ایم سے اپنا بیلنس چیک کرنا پڑا۔ اس دوران اسکرین پر رقم دیکھ کر وہ دنگ رہ گئیں: ان کے اکاؤنٹ میں 9,99,49,588 روپے موجود تھے۔ یقین نہ آنے پر انہوں نے ایک اور اے ٹی ایم سے دوبارہ چیک کیا اور رقم کی ویڈیو بھی بنا لی، جو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
ریتا نے نہ صرف خود رقم نکالنے سے انکار کیا بلکہ اپنے اہل خانہ کو بھی سختی سے تاکید کی کہ وہ اس رقم کو ہاتھ نہ لگائیں۔ انہوں نے کہا، “یہ رقم میری نہیں ہے، اس لیے میں اسے استعمال نہیں کر سکتی۔”
بینک آف انڈیا کے مقامی برانچ منیجر رشی کانت پانڈے کے مطابق یہ واقعہ تکنیکی خرابی یا ٹرانزیکشن کی غلطی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے اور برانچ کھلنے کے بعد اس کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔
اس واقعے نے پورے علاقے میں ریتا کو ہیرو بنا دیا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین ان کی ایمانداری کی تعریف کر رہے ہیں اور اسے آج کے دور میں ایک نایاب مثال قرار دے رہے ہیں، جہاں لوگ چھوٹے فائدے کے لیے دیانتداری کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔









