پی آئی اے کی نجکاری سے حکومت کو 55 ارب روپے کی متوقع آمدنی

0
105
پی آئی اے کی نجکاری سے حکومت کو 55 ارب روپے کی متوقع آمدنی

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس معاہدے سے قومی خزانے کو مجموعی طور پر 55 ارب روپے حاصل ہونگے۔
مشیر نجکاری کے مطابق پی آئی اے کی مجموعی مالیت 180 ارب روپے ہے، جس میں حکومت کے 25 فیصد شیئرز بھی شامل ہیں۔ اگر یہ شیئرز فروخت کیے جائیں تو حکومت کو 45 ارب روپے حاصل ہوں گے، اور نجکاری سے کل اقتصادی فائدہ 55 ارب روپے بنتا ہے۔
محمد علی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ نجکاری کا مقصد حکومت کی جانب سے کاروبار چلانے کی ذمہ داری ختم کرنا اور اسے نجی شعبے کے حوالے کرنا ہے، تاکہ ایئرلائن کی کارکردگی اور خدمات میں بہتری آئے۔ نجی سرمایہ کاری کے نتیجے میں پی آئی اے میں نئے طیارے شامل ہوں گے اور سروسز بہتر ہوں گی۔
ان کے مطابق بولی کی رقم کا 7.5 فیصد یعنی 10 ارب 12 کروڑ 50 لاکھ روپے حکومت کو ملیں گے، جبکہ باقی 92.5 فیصد رقم یعنی 124 ارب 87 کروڑ 50 لاکھ روپے پی آئی اے پر ہی خرچ ہوگی۔ سرمایہ کاری دو حصوں میں کی جائے گی، جس میں دو تہائی رقم فوری طور پر اور باقی ایک تہائی رقم مالی امور مکمل ہونے کے 12 ماہ کے اندر استعمال کی جائے گی۔
مشیر نجکاری نے بتایا کہ پی آئی اے کے پاس اس وقت 33 طیارے ہیں جن میں 16 اے 320، 12 بوئنگ 777 اور 5 اے ٹی آر شامل ہیں، جن میں سے صرف 19 طیارے فعال ہیں۔ ملکی مارکیٹ میں ایئرلائن کا حصہ تقریباً 30 فیصد ہے اور یہ 78 ممالک کے لیے نامزد ایئرلائن ہے جبکہ 97 ممالک کے ساتھ ایئر سروس معاہدے موجود ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نجکاری سے متعلق غلط بیانیے پھیلائے جا رہے ہیں، جن میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پی آئی اے 10 ارب روپے میں فروخت ہو گئی، حالانکہ حکومت کو اس معاہدے سے 55 ارب روپے کی اقتصادی قدر حاصل ہو رہی ہے۔
محمد علی نے مزید کہا کہ خریداروں کو مختلف مراعات دی گئی ہیں، جن میں جی ایس ٹی سے استثنیٰ اور نئے ٹیکسز یا سرچارج نہ لگانے کی سہولت شامل ہے۔ ایف بی آر کے 26 ارب روپے اور دیگر واجبات کی ادائیگی کے لیے خریداروں کو پانچ سال کی مدت دی گئی ہے

Leave a reply