ٹرمپ کی ایران کو نئی وارننگ، اسرائیلی کارروائی کی حمایت کا عندیہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام سے متعلق ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے ان سرگرمیوں کو دوبارہ فعال کیا تو امریکا فوجی ردِعمل سے گریز نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو ایسی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتیں بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
فلوریڈا میں میڈیا سے گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ممکنہ پیش رفت کی صورت میں بھرپور کارروائی کی جائے گی۔ ان کے مطابق جون میں ایرانی جوہری تنصیبات پر ہونے والے فضائی حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکا اپنے مؤقف پر سنجیدہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر ایران نے اپنے جوہری یا میزائل منصوبوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کی تو امریکا سخت اقدام اٹھانے پر مجبور ہوگا، اگرچہ ان کی ترجیح یہی ہے کہ صورتحال اس حد تک نہ پہنچے۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے جب امریکی صدر نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے فلوریڈا میں ملاقات کی۔ ملاقات میں خطے کی مجموعی سلامتی، غزہ، لبنان اور ایران سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل نے حالیہ عرصے میں مختلف محاذوں پر اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات اور ایران کے خلاف کی گئی کارروائیاں شامل ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل ایران کے میزائل پروگرام کے خلاف کوئی اقدام کرتا ہے تو امریکا اس کی حمایت کرے گا، جبکہ جوہری پروگرام کے معاملے پر فوری اور براہِ راست ردعمل دیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق امریکی صدر کے حالیہ بیانات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں اور یہ ایران کے جوہری و دفاعی پروگرام کے حوالے سے واشنگٹن کے سخت مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔









