ٹرمپ انتظامیہ نے تمام ترقی پذیر ممالک سے امیگریشن مستقل طور پر روکنے کا اعلان کر دیا

0
111
ٹرمپ انتظامیہ نے تمام ترقی پذیر ممالک سے امیگریشن مستقل طور پر روکنے کا اعلان کر دیا

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی انتظامیہ امریکا کے امیگریشن نظام کو بحال کرنے کے لیے تیسری دنیا کے تمام ممالک سے ہجرت کو مستقل طور پر روکنے کے اقدامات کرے گی۔

ٹرمپ نے تھینکس گیونگ کے موقع پر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی امیگریشن سسٹم ’’غیر معمولی دباؤ‘‘ کا شکار ہے اور اسے مستقل بنیادوں پر قابو پانا ناگزیر ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ امریکا میں غیر ملکی افراد کی تعداد 5 کروڑ 30 لاکھ سے زائد ہے، جن میں بڑی تعداد فلاحی پروگراموں سے فائدہ اٹھانے والے، جرائم میں ملوث یا ناکام ممالک سے تعلق رکھنے والے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہاجر آبادی امریکی وسائل پر بوجھ ڈال رہی ہے اور ملک میں جرائم، تعلیمی مسائل اور بے روزگاری میں اضافے کی وجہ بھی یہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک عام مہاجر تقریباً 50 ہزار ڈالر کے ریاستی فوائد حاصل کرتا ہے جبکہ اس کی سالانہ آمدنی 30 ہزار ڈالر ہوتی ہے۔

ٹرمپ نے خاص طور پر ریاست مینیسوٹا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صومالی مہاجرین نے وہاں کے حالات بدل دیے ہیں اور انہوں نے ریاست کے گورنر اور کانگریس رکن پر بھی تنقید کی۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان کی پالیسی کے تحت وفاقی مراعات اور سبسڈیاں صرف امریکی شہریوں تک محدود ہوں گی، اور ’’ریورس مائیگریشن‘‘ ہی امیگریشن بحران کا مستقل حل ہے۔ علاوہ ازیں، بائیڈن انتظامیہ کے دوران آنے والے غیر قانونی مہاجرین کو ملک بدر کیا جائے گا اور ایسے افراد کی شہریت منسوخ کی جائے گی جو ’’امریکا کے لیے مفید نہیں‘‘ یا ’’مغربی تہذیب سے ہم آہنگ نہیں‘‘۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اعلان سابقہ سخت امیگریشن اقدامات کو مزید سخت اور غیر معمولی سطح پر لے جانے کا سلسلہ ہے۔

Leave a reply