ایران میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے ملک بھر میں پھیل گئے

ایران کے مختلف شہروں میں مہنگائی اور ملکی کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ مقامی اور بین الاقوامی ذرائع کے مطابق تازہ مظاہروں میں تشدد کے واقعات میں ایک سیکیورٹی اہلکار سمیت کم از کم چھ افراد ہلاک ہوئے اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق صوبہ لورِستان کے شہر فسا اور ازنا میں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ کچھ علاقوں میں مظاہرین نے سرکاری عمارتوں پر دھاوا بولا اور پولیس اسٹیشن کو آگ لگانے کی کوشش کی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ، ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق جھڑپوں کے دوران چھ افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔ حکام نے ہنگامہ آرائی میں ملوث متعدد افراد کو گرفتار کیا ہے۔ بعض شہروں میں مظاہرین نے سرکاری دفاتر پر بھی حملے کیے، اور 30 افراد کو حراست میں لیا گیا۔
خبر رساں ذرائع کے مطابق بدھ کے روز ملک کے بیشتر تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر بند رہے۔
احتجاجات کا آغاز پانچ روز قبل دارالحکومت تہران سے ہوا تھا اور اب یہ دیگر شہروں تک پھیل چکے ہیں۔ مظاہرین مہنگائی، معاشی مشکلات اور کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف شدید نعرے لگا رہے ہیں، جبکہ سیکیورٹی فورسز صورتحال کنٹرول کرنے کے لیے الرٹ ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ احتجاج کی بجائے قومی اتحاد اور یکجہتی دکھائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چند گھنٹوں کے اندر معاشی بہتری کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کر سکتی ہے۔ صدر نے مظاہروں کے پیچھے بیرونی اثر و رسوخ کا بھی عندیہ دیا اور کہا کہ دشمن معاشی دباؤ کے ذریعے ملک کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن کسی قوم کو بم، میزائل یا لڑاکا طیاروں سے قابو نہیں کیا جا سکتا۔








