اسرائیلی قید کے دوران اطالوی کارکن کا قبولِ اسلام

0
110
اسرائیلی قید کے دوران اطالوی کارکن کا قبولِ اسلام

غزہ کے محصور عوام کے لیے امداد لے جانے والی “گلوبل صمود فلوٹیلا” میں شامل اطالوی کارکن نے اسرائیلی جیل میں اسلام قبول کرلیا۔ استنبول ائیرپورٹ پر رہائی پانے والے کارکنوں کا پرتپاک استقبال کیا گیا، اس موقع پر کئی ساتھی جذباتی ہو گئے اور ایک دوسرے سے گلے ملتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔

ترک سماجی کارکن بکیر دیویلی کے مطابق اطالوی کارکن ٹومی رابنسن نے جیل میں اسلام قبول کیا۔ جب ساتھیوں نے گاڑی میں مبارکباد دی تو اسرائیلی حکام نے اسے دوبارہ قید میں ڈال دیا۔ دیویلی کے بقول، “میں نے اسے کہا کہ تم نے اسلام قبول کرنے کی قیمت دسویں سیکنڈ میں چکا دی۔”

اس وقت تک 137 کارکن اسرائیلی حراست سے رہائی پا چکے ہیں اور استنبول پہنچ چکے ہیں۔ ان میں 36 ترک شہریوں کے علاوہ دیگر ممالک جیسے امریکا، برطانیہ، اٹلی، اردن، کویت، لیبیا، الجزائر، موریطانیہ، ملائیشیا، بحرین، مراکش، سوئٹزرلینڈ اور تیونس کے نمائندے شامل ہیں۔

ادھر اطلاعات کے مطابق تقریباً 450 کارکن اب بھی اسرائیلی قید میں ہیں، جن میں پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت کئی پاکستانی بھی شامل ہیں۔

رہائی پانے والے کارکنوں نے اسرائیلی فوج کی جانب سے بدترین سلوک کا انکشاف کیا ہے۔ ترک صحافی ایرسن سیلک کے مطابق کئی کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کو زمین پر گھسیٹا گیا، اذیت دی گئی اور جبراً اسرائیلی جھنڈے کو چومنے پر مجبور کیا گیا، حالانکہ وہ کم عمر ہے۔

اسرائیلی جارحیت کے باوجود ایک اور فلوٹیلا قافلہ غزہ کی جانب روانہ ہو چکا ہے، جو متاثرہ فلسطینیوں کے لیے خوراک، ادویات اور دیگر امدادی سامان لے جا رہا ہے۔ اس قافلے میں بھی کئی ممالک کے رضاکار شامل ہیں۔

دریں اثنا، دنیا بھر میں فلوٹیلا کے حق میں اور اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ مختلف شہروں میں مظاہرین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کی حفاظت کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔

Leave a reply