آج کے کالمز
قومیں صرف اپنے ماضی سے نہیں بنتیں، وہ اس مستقبل سے بھی پہچانی جاتی ہیں جس کا خواب ان کے لوگ دیکھتے ہیں۔ ہر نسل اپنے بعد آنے والوں کے لیے کچھ نہ کچھ چھوڑ جاتی ہے؛ کوئی علم، کوئی انصاف، کوئی آزادی، کوئی خوشحالی اور کوئی ایسا نظام جس
اسلام آباد ایئرپورٹ پر ناروے کے وزیر خارجہ کا عام مسافر کی طرح اپنا ٹرالی بیگ لے کر باہر نکلنے کا منظر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا۔ بظاہر یہ ایک معمول کی بات تھی، مگر پاکستان میں اس پر ہونے والی بحث نے ایک اہم معاشرتی حقیقت اجاگر
مشرقِ وسطیٰ میں امن کی ہر کوشش اس وقت تک کمزور دکھائی دیتی ہے جب تک خطے کے ممالک کے درمیان اعتماد قائم نہ ہو۔ ایران اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کی حالیہ صورتحال اسی حقیقت کی ایک نئی مثال ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ایسا محسوس ہو رہا تھا
پاکستان کی معیشت اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں حکومتی قرضوں میں مسلسل اضافہ محض مالیاتی اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ عام شہری کی زندگی، روزگار، کاروبار اور مستقبل سے جڑا ہوا معاملہ بن چکا ہے۔ قرض بڑھتا ہے تو اس کے ساتھ سود
انسان نے مصنوعی ذہانت کو اپنی ذہانت کا سب سے شاندار شاہکار سمجھ لیا ہے۔ مشینیں سوچ رہی ہیں، تصویریں بنا رہی ہیں، ویڈیوز تخلیق کر رہی ہیں، زبانیں سمجھ رہی ہیں اور چند لمحوں میں وہ کام انجام دے رہی ہیں جن کے لیے کبھی انسان کو گھنٹوں، دنوں
چودہ اگست آتا ہے تو گلیاں جھنڈوں سے سج جاتی ہیں، فضائیں ملی نغموں سے گونجتی ہیں، سبز ہلالی پرچم چھتوں پر لہراتے ہیں اور ہر طرف ایک ہی صدا سنائی دیتی ہے: پاکستان زندہ باد! مگر ذرا ٹھہریے! اگر پاکستان زندہ ہے تو پھر اس کے شہری اتنے بے
کھیل
ہاٹ لائن نیوز پر شائع ہونے والی تمام خبریں، رپورٹس، تصاویر اور وڈیوز ہماری رپورٹنگ ٹیم اور مانیٹرنگ ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں۔ ان کو پبلش کرنے سے پہلے اسکے مصدقہ ذرائع کا ہرممکن خیال رکھا گیا ہے، تاہم کسی بھی خبر یا رپورٹ میں ٹائپنگ کی غلطی یا غیرارادی طور پر شائع ہونے والی غلطی کی فوری اصلاح کرکے اسکی تردید یا درستگی فوری طور پر ویب سائٹ پر شائع کردی جاتی ہے۔



