آج کے کالمز
دنیا ایک عجیب دوراہے پر کھڑی ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد یہ تصور عام ہو چلا تھا کہ طاقت کے استعمال پر کم از کم کچھ اخلاقی، قانونی اور سفارتی پابندیاں ضرور قائم رہیں گی۔ بین الاقوامی ادارے، عالمی معاہدے اور اجتماعی مفادات اسی امید کے سہارے وجود
پاکستان ایک ایسے جغرافیائی خطے میں واقع ہے جو عالمی سیاست کے لیے تزویراتی اہمیت رکھتا ہے۔ ہمارے چار پڑوسی ممالک—بھارت، افغانستان، ایران اور چین—کے ساتھ تعلقات میں جغرافیائی قربت اور تجارتی مواقع موجود ہیں، مگر بدقسمتی سے یہ قدرتی فائدے ہمیشہ اقتصادی خوشحالی میں تبدیل نہیں ہو سکے۔ بھارت
پاکستان اس وقت ایک نہایت نازک معاشی مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں ماضی کی پالیسی غلطیاں، اندرونی کمزوریاں اور عالمی دباؤ ملکی معیشت پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، موجودہ بحران محض وقتی نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط ساختی مسائل کا نتیجہ ہے۔ مالیاتی خسارہ،
ایران میں بغاوت اور پاکستان کے لیے اس کے اثرات ایران میں مہینوں سے جاری مظاہروں نے اب پوری سرزمین کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یہ احتجاج شروع تو مہنگائی کے خلاف ہوا تھا، مگر جلد ہی ایک بڑی سیاسی تحریک میں بدل گیا، جس کا مقصد حکومت کے
پاکستان میں جمہوریت کی بات تو بڑے زور و شور سے کی جاتی ہے، مگر اس کی سب سے مضبوط بنیاد یعنی بلدیاتی نظام کو ہمیشہ نظرانداز کیا گیا۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک یہ المیہ رہا ہے کہ مقامی حکومتوں کو نہ تو بااختیار بنایا گیا اور
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود کو دنیا میں امن قائم کرنے والا رہنما قرار دیتے رہے ہیں، لیکن نئے سال کے آغاز پر اُن کے بیانات اور اقدامات نے ایک مختلف تصویر پیش کی۔ ایک طرف وہ جنگیں ختم کرانے کا دعویٰ کرتے ہیں، تو دوسری طرف مختلف ممالک کو
پاکستان
-
پی ٹی آئی کا جلسہ: اجازت یا پابندی؟ سندھ حکومت نے شرطیں عائد کر دی!”
January 11, 2026 -
شمالی علاقوں میں خون جما دینے والی سردی، نظامِ زندگی متاثر
January 11, 2026
کھیل
ہاٹ لائن نیوز پر شائع ہونے والی تمام خبریں، رپورٹس، تصاویر اور وڈیوز ہماری رپورٹنگ ٹیم اور مانیٹرنگ ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں۔ ان کو پبلش کرنے سے پہلے اسکے مصدقہ ذرائع کا ہرممکن خیال رکھا گیا ہے، تاہم کسی بھی خبر یا رپورٹ میں ٹائپنگ کی غلطی یا غیرارادی طور پر شائع ہونے والی غلطی کی فوری اصلاح کرکے اسکی تردید یا درستگی فوری طور پر ویب سائٹ پر شائع کردی جاتی ہے۔



