آج کے کالمز
14 اگست صرف جھنڈے لہرانے، ملی نغمے سننے اور چراغاں کرنے کا دن نہیں۔ یہ دن ایک ایسا سوال بن کر ہمارے سامنے کھڑا ہوتا ہے جس سے فرار ممکن نہیں: ہم نے آزادی حاصل تو کرلی، مگر کیا ہم نے آزادی کو مضبوط بھی کیا؟ اس بار جشنِ آزادی
کبھی تاریخ توپوں کی گھن گرج میں نہیں، ایک بند دروازے کے سامنے لکھی جاتی ہے۔ آج مشرقِ وسطیٰ اسی دروازے کے سامنے کھڑا ہے۔ ایک طرف میزائل، دوسری طرف معاشی پابندیاں؛ ایک طرف غزہ کے ملبے تلے دبے خواب، دوسری طرف ایران کی مزاحمت؛ اور درمیان میں وہ سفارت
کراچی میں رضا میر کے قتل نے ایک بار پھر شہریوں کے تحفظ سے متعلق بنیادی سوالات کو نمایاں کردیا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ نوجوان، جس کے سامنے زندگی کے بے شمار امکانات موجود تھے، ایک ایسے واقعے کا شکار ہوگیا جس نے اس کے خاندان اور دوستوں کی زندگیوں
ایک دن بعد پاکستان کا یومِ آزادی منایا جائے گا۔ سبز ہلالی پرچم گھروں کی چھتوں، گاڑیوں اور بازاروں میں لہراتا دکھائی دے گا۔ گلیاں سبز و سفید رنگوں سے سجیں گی، ملی نغمے فضا میں گونجیں گے، بچے چہروں پر پاکستان کا پرچم سجائے گھومیں گے اور ہر طرف
جمہوری معاشرے میں احتجاج عوام کا حق ہے۔ حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف ہو، مہنگائی بڑھے یا پٹرول کی قیمت عام آدمی کی کمر توڑ دے، شہریوں کو اپنی آواز بلند کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اپنے حق کے لیے احتجاج کرتے ہوئے کیا
آج ہمارے گھروں میں کتابیں موجود ہیں۔ الماریوں میں، میزوں پر، پرانے صندوقوں میں، یونیورسٹیوں کی لائبریریوں میں اور بعض اوقات ایسے کمروں میں جہاں برسوں سے کوئی نہیں گیا۔ ہم انہیں دیکھ کر مطمئن رہتے ہیں کہ علم محفوظ ہے۔ لیکن کتاب کا اصل تحفظ صرف اس وقت تک
کھیل
ہاٹ لائن نیوز پر شائع ہونے والی تمام خبریں، رپورٹس، تصاویر اور وڈیوز ہماری رپورٹنگ ٹیم اور مانیٹرنگ ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں۔ ان کو پبلش کرنے سے پہلے اسکے مصدقہ ذرائع کا ہرممکن خیال رکھا گیا ہے، تاہم کسی بھی خبر یا رپورٹ میں ٹائپنگ کی غلطی یا غیرارادی طور پر شائع ہونے والی غلطی کی فوری اصلاح کرکے اسکی تردید یا درستگی فوری طور پر ویب سائٹ پر شائع کردی جاتی ہے۔



