بھارتی سفارتکار کو کینیڈا 23

بھارتی سفارتکار کو کینیڈا سے ملک بدر کیوں کیا گیا ؟

کینیڈا: ( ہاٹ لائن نیوز) کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے کہ کینیڈین سکھ راہنما ہردیپ سنگھ نجار کی ہلاکت میں انڈین حکومت کا ہاتھ ہے۔

کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں خالصتانی راہنما ہردیپ سنگھ کو 18 جون 2023ء کو سکھ گردوارہ کے باہر گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔

کینیڈین وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ کینیڈا کے انٹیلیجنس اداروں نے سکھ راہنما کی موت اور انڈین ریاست کے درمیان گہرے تعلق کی نشان دہی کی ہے۔

کینیڈین وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ انہوں نے حال ہی میں انڈیا میں ہونیوالے جی 20 سربراہی اجلاس کے موقع پر انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ یہ مسئلہ اٹھایا تھا۔

وزیر اعظم ٹروڈو نے پیر کے روز کینیڈا کی پارلیمان میں کہا تھا کہ کینیڈا کی سرزمین پر ہی کسی کینیڈین شہری کے قتل میں کسی غیر ملکی حکومت کا ملوث ہونا کینیڈا کی خودمختاری کی ناقابل قبول خلاف ورزی ہے۔

کینیڈین وزیر خارجہ میلانیا جولی نے کینیڈین وزیر اعظم کے تبصرے کے بعد صحافیوں سےکہا ہے کہ کینیڈا نے پیر کے روز انڈیا کے اعلیٰ ترین سفارت کار پون کمار رائے کو اس معاملے پر ملک بدر کر دیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کینیڈا سے ملک بدر کیے جانیوالے انڈیا کے اعلیٰ سفارت کار کینیڈا میں را کے سربراہ تھے۔

کینیڈین وزیر خارجہ میلانیا جولی نے مزید کہا ہے کہ کینیڈین حکام سکھ راہنما کے قتل سے متعلق ہونیوالی تحقیق کے پیش نظر عوامی سطح پر مزید معلومات دینے سے قاصر ہیں۔

کینیڈین تفتیش کار پہلے ہی ہردیپ سنگھ کی موت کو ’ٹارگٹ کلنگ‘ قرار دے چکے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں