38

پروسیسڈ غذاں کا تعلق قبل از وقت اموات سے ہے، تحقیق

سا ئوپولو،برازیل(ہاٹ لائن نیوز) ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ ضرورت سے زیادہ پروسیسڈ غذائوں کے کھائے جانے کے موٹاپے اور بلند کولیسٹرول سے زیادہ تشویش ناک نتائج ہوسکتے ہیں۔پروسیسڈ غذائیں وہ غذائیں ہوتی ہیں جن کو محفوظ کرنے کے لیے مکینیکی یا کیمیائی طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے۔کیلوریز سے بھرپور غذائیں جیسے کہ پیزا، کیک اور ہاٹ ڈوگ اکثر چینی، نمک اور چکنائی سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے موٹاپے، امراضِ قلب اور دیگر دائمی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔امیریکن جرنل آف پرِیوینٹو میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق میں برازیل کے محققین کے ایک اندازے کے مطابق 2019 میں پورے برازیل میں 30 سے 69 برس کے درمیان 57 ہزار کیقریب برازیلیوں کی اموات انتہائی پروسیسڈ غذاں کے کھانے کی وجہ سے ہوئیں۔اموات کی یہ تعداد اس عمر کے افراد کے قابلِ علاج امراض سے ہونے والی اموات کا 22 فی صد جبکہ تمام قبل از وقت اموات کا 10 فی صد ہے۔ماہرین کے مطابق امریکا، کینیڈا اور برطانیہ جیسے زیادہ آمدنی والے ممالک میں، جہاں جنک فوڈ کی کھپت زیادہ ہے، اس کے اثرات بہت زیادہ ہوں گے۔یونیورسٹی آف سا پالو سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے سربراہ مصنف ڈاکٹر ایڈوراڈو نِلسن کا کہنا تھا کہ الٹرا پروسیسڈ غذاں کی کھپت کا متعدد بیماریوں سے تعلق ہے جیسے کہ موٹاپا، امراضِ قلب، ذیا بیطس، کچھ اقسام کے کینسر اور دیگر بیماریاں وغیرہ اور یہ برازیلی افراد میں قبلِ از وقت اموات کی ایک اہم وجہ پیش کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اب تک کوئی بھی ایسی تحقیق نہیں کی گئی جس میں ان پروسیسڈ غذاں کا قبل از وقت اموات میں ممکنہ تعلق سامنے آیا ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں