بڑی بڑی کمپنیوں کے گرد شکنجہ کَس گیا!نئی آٹو پالیسی کس لیے بنائی جا رہی ہے؟ اصل خبر تو اب سامنے آئی

اسلام آباد(ہاٹ لائن نیوز)وفاقی حکومت نے گاڑی میں معیاری حفاظتی انتظامات نہ کرنے والی ،اور سہولیات نہ دینے والی آٹو مینو فیکچرنگ کمپنیوں کیخلاف اقدامات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

درآمد کنندگان اور اسمبلرز کیلئے ڈبیلو پی انتیس ریگولیشنرز کی پاسداری کو لازمی قرار دیا گیا ہے،حفاظتی معیارات پورا نہ کرنے پر گاڑیوں کی درآمد اور مقامی گاڑیوں کی تیاری کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، یہ پابندیاں تیس جون دو ہزار بائیس کے بعد حفاظتی معیارات پورے نہ کرنے پر عائد ہوں گی۔

اس کے علاوہ حکومت نے مقامی طور پر تیار کردہ الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 17 فیصد سے کم کرکے ایک فیصد جبکہ حفاظتی معیارات پورا نہ کرنے پر تیس جون دو ہززار بائیس کے بعد گاڑیوں کی درآمد اور گاڑیوں کی مقامی طور پر تیاری کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نئی پانچ سالہ آٹو پالیسی کی دستاویز کے مطابق مقامی طور پر تیار کردہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی بی یو کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی پچیس سے کم کرکے دس فیصد، موٹرسائیکل کے الیکٹرک پرزہ جات پر کسٹمز ڈیوٹی ایک فیصد، ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کم کرکے ساڑھے آٹھ فیصد اور ہائبریڈ سی بی یو کی امپورٹ پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/hotlinenews/public_html/wp-includes/functions.php on line 5107