33

ایک اور بڑا سکینڈل بے نقاب!! اسپتالوں میں نرسوں کو کیسے بھرتی کیا جاتا ہے؟ شرمناک انکشاف

لاہور(ہاٹ لائن نیوز)لاہور میں نرسز کی بوگس بھرتیوں کا انکشاف ہوا ہے اس ضمن میں محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کی رپورٹ نے بھانڈہ پھوڑ دیا،پنجاب کے مختلف ٹیچنگ اسپتالوں میں 40 سے زائد نرسزکے کاغذات نامکمل پائےگئےسرکاری کاغذات کے مطابق کوٹ خواجہ سعید کی 15 جبکہ پی آئی سی اسپتال میں 3 نرسز بوگس کام کررہی تھی.

رپورٹ کے مطابق کوٹ خواجہ سعید اسپتال کا کیشئر آصف اور اسسٹنٹ صبور بوگس بھرتیوں میں ملوث پائےگئے اور انکوائری کمیٹی کی دونوں کےخلاف کارر وائی کی سفارش جبکہ محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کا 2017 سے 2019 تک بھرتی ہونے والی تمام 9239نرسز کی چھان بین کا فیصلہ کر لیا ہے،نرسز کی بوگس بھرتیوں کی تحقیق کیلئے 4 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس کی ایڈیشنل سیکرٹری اسٹیبلشمٹ قرۃآلعین مین کمیٹی کی کنوینر تھی۔

ڈائریکٹر انٹرنل آڈٹ سرفرازاحمد، ڈائریکٹر آئی اینڈ سی عثمان افتخار اور آڈٹ آفیسر گنگارام اسپتال اسرار الحق کمیٹی کے رکن تھے۔ رپورٹ کے مطاب میاں منشی اسپتال، سید میٹھا اسپتال، نوازشریف یکی گیٹ اسپتال، شیخ زاید اسپتال رحیم یار خان میں تعینات نرسز کی چھان بین کی گئی جس میں انکشاف ہوا کہ متعدد نرسز کی تقرری کے کاغذات ہی کہیں موجود نہیں، تبادلے اور مستقل ہونے والی نرسزکے دستاویزات بھی نہ مل سکے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں