41

برطرف ملازمین بحال ہونگے یا نہیں؟؟؟ سپریم کورٹ سے بڑی خبر آگئی

اسلام آباد(ہاٹ لائن نیوز) برطرف ملازمین بحال ہوں گے یا نہیں ، سپریم کورٹ اہم ترین فیصلہ کل سنائے گی ۔ سپریم کورٹ میں برطرف ملازمین کی بحالی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، عدالت نے ریمارکس دیے کہ کرپشن پر نکالے گئے ملازمین کو پارلیمنٹ کیسے بحال کر سکتی ہے ؟، بحالی کے قانون میں کرپشن پر نکالے گئے ملازمین کو تحفظ حاصل نہیں.

دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہحکومتی اقدامات میں شفافیت ہونی چاہئے ،قانون سازی کرناآئین کےتحت پارلیمنٹ کاہی اختیارہے۔ملازمین کے وکیل نے کہا کہ عدالت قانون کالعدم قرار دیتے ہوئے بھی ملازمین کوتحفظ دےسکتی ہے، معلوم ہےعدالت مستقبل کیلئےکوئی غیرمناسب اصول وضع نہیں کرےگی۔

جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نےکسی ملازم کو برطرف کرنےکاحکم نہیں دیاتھا، ماضی کےاصولوں پرچلتےہوئےقانون کالعدم قراردیاتھا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ جمہوری نظام میں قانون سازی پارلیمنٹ کےذریعےہوتی ہے، پارلیمنٹ سپریم ہے جبکہ آرڈیننس کادائرہ محدودہوتاہے،آرڈیننس کےذریعےحکومت عارضی قانون سازی کرسکتی ہے.

مارشل لا دور کےعلاوہ ہرآرڈیننس کے بعد ایکٹ آف پارلیمنٹ آتا ہے، آرڈیننس کےتحت بحال ملازمین کوایکٹ میں تحفظ نہیں دیاگیا، آرڈیننس کےتحت 2009 میں بحال ہونیوالے اب تک کیسےبرقراررہ سکتے، ضروری حالات میں فوری ضرورت کےتحت ہی آرڈیننس آسکتاہے۔وکیل ملازمین نے کہا کہ سپریم کورٹ نےبرطرف ملازمین سےریکوری کاحکم بھی دیا ہے، ریکوری کیلئےملازمین کی ریٹائرمنٹ مراعات روکی جارہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں