’’پاکستانی قانون لاگو نہیں ہوتاس لیے….‘‘رانا شمیم نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیا درخواست دے دی؟ بڑی خبر

اسلام آباد(ہاٹ لائن نیوز)سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا شمیم نے تحریری جواب عدالت میں جمع کرا دیا ہے۔جس میں کہا گیا ہے کہ میری اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی گفتگو گلگت بلتستان میں ہوئی جہاں پاکستان کے قانون لاگو نہیں ہوتے۔اس لیے توہین عدالت کیس خارج کیا جائے.

انہوں نے تحریری جواب مین یہ بھی کہا کہ میں اپنے بیان حلفی پر قائم ہو۔نہ کسی کو بیان حلفی دیا نہ کسی کو شائع کرنے کا کہا۔جب کہ ساتھ مین انہوں نے لکھا سوشل میڈیا پر گردش کرتا ہوں بیان حلفی کی کاپی جمع کرا رہا ہے اور میں اس کے مندرجات سے متفق ہوں۔ سوشل میڈیا والے حلف نامے کے مندرجات وہی ہیں جو میرے جواب میں ہیں.

قانون کی پاسداری کرنے والا شخص ہوں ، کبھی عدلیہ کو بدنام کرنے یا مذاق آرانے کا ارادہ نہ تھا ، نہ ہی کسی عدالتی کارروائی کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی ۔ میں نے مرحومہ بیوی سے وعدی کیا تھا کہ اس وقت پیش آنے والی حقیقت کو تحریری طور پر ریکارڈ کراؤں گا، حلف نامے کی شکل میں مرحومہ بیوی سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا ، عدلیہ کی تضحیک کا ارادہ ہوتا تو پاکستان میں حلف نامہ میڈیا کو دیتا۔

امریکہ سے واپس آتے ہوئے دو روز لندن میں رہا جہاں اپنے پوتے سے ملاقات کی جو قانون کا طالبعلم ہے ، میں بیان حلفی کو اپنی زندگی میں عام کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا اس لئے مناسب سمجھا کہ اپنا بیان ریکارڈ کراؤں اور حلف نامہ پاکستان سے باہر نوٹرائز کراؤں ۔ میں نے بیان حلفی پوتے کو دیا اور ہدایت کی کہ اسے نہ کھولے ۔

ساتھ ہیسابق جج نے یہ بھی کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ بیان حلفی میڈیا تک کیسے پہنچا اور نہ ہی ان کا میڈیا کو دینے کا ارادہ تھا
سابق جج نے عدالت سے درخواست کی کہ توہین عدالت کا نوٹس واپس لیا جائے


Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/hotlinenews/public_html/wp-includes/functions.php on line 5107