ہراساں کرنے کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

0
79

ہاٹ لائن نیوز : لاہور ہائیکورٹ میں میاں اسلم اقبال کے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کو ہراساں کرنے کیخلاف درخواست کے معاملہ پرعدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا ۔

سرکاری وکیل کے مطابق وہاں پر موجود ریٹرننگ افسر کو درخواست دینی چاہیے جس پر عدالت نے کہا کہ اگر یہ کہتے ہیں کہ انہیں اس لیے حراست میں لیا گیا تا کہ کاغزات جمع نہ کروا سکے تو پھر کیا کرنا چاہیے؟

سرکاری وکیل نے کہاہےکہ اس حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کوہی درخواست دی جاسکتی ہے ۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جی ہم الیکشن کمیشن کو بھی درخواست دیں گے، ایس ایچ او نے کہا تھا کہ اوپر سے آڈر کروائیں ۔

عدالت نےاستفسار کیا کہ اگر اس قسم کے الزامات آئیں تو پھر الیکشن کمیشن کی کیاذمہ داری ہے؟ اگر انکی بات سچی ہے تو کیا پولیس افسران پر ایف آئی آر ہونی چاہیے ؟

وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں اس حوالے سے کوئی کمنٹ نہیں کر سکتا، اگر ان کو حبس بے جا میں رکھا گیا ہے تو انہیں پولیس کے پاس جانا چاہیے ۔

جس پر عدالت نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن کے پاس شکایت آئی تو الیکشن کمیشن نے کیا ایکشن لیا، یہ تو ہم آپ سے پوچھیں گے، اگر تجویز اور تائید کنندہ کو ریٹرنگ افسران کے سامنے پیش ہونے سے روکا جاتا ہے تو کیا یہ الیکشن کی شفافیت پر اثر انداز نہیں ہوگا؟الیکشن کمیشن کے پاس کونسا پیمانہ ہے صاف و شفاف الیکشن کو جانچنے کا؟

وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نے شفاف انتخابات کے لیے ریٹرننگ آفیسر مقرر کیے ہیں ۔

Leave a reply