31

گریڈ1سے 19تک ملازمین کی تنخواہوں میں کتنا اضافہ ہو گا؟وزیر خزانہ نے بتا دیا

اسلام آباد (ہاٹ لائن نیوز) سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے معاملے میں اہم خبر سامنے آئی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کیلئے آئی ایم ایف کو اعتماد میں لے لیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن کیلئے 780 ارب مختص ہونے کا امکان ہے۔خزانہ ڈویژن نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کیلئے 3 تجاویز دی ہیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 5 سے 10 فیصد اضافے پر غور کیا جا رہا ہے۔ گریڈ ایک سے 19 تک تنخواہوں میں 10 فیصد ایڈہاک الاؤنس کی مد میں اضافے پر غور کیا جا رہا ہے۔مزید بتایا گیا ہے کہ گریڈ 20 تا 22 کے ملازمین کیلئے 10 فیصد تک اضافے کی تجویز ہے۔ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 5 سے 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق تنخواہوں میں اضافے کی منظوری وزیراعظم شہباز شریف دیں گے۔مالی وسائل مدِنظر رکھ کر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔30 جون تک سفارشات کو حتمی شکل دی جائے گی۔قبل ازیں بتایا گیا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا معاملہ آئی ایم ایف کی منظوری سے منسلک ہے۔ آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے کہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہ بڑھائی جائیں۔ وزارت خزانہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کی تجاویز آئی ایم ایف کے سامنے رکھے گی گی۔ذرائع نے بتایا کہ وزارت خزانہ سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں اضافے کی بجائے ایڈ ہاک الاؤنس دینا چاہتی ہے۔ ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق ایڈ ہاک الاؤنس دینے کے لیے بھی آئی ایم ایف کی رضامندی ضروری ہے۔آئی ایم ایف کی منظور کردہ تجاویز ہی بجٹ کا حصہ ہوں گی۔ قومی اسمبلی کااجلاس پیر سے شروع ہوا جس میں دس جون کو آئندہ مالی سال 2022-23کا بجٹ پیش کیا جائیگا ۔ آئندہ مالی سال 23-2022 کا سالانہ بجٹ قومی اسمبلی کے سیشن میں 10 جون بروز جمعہ کو پیش کیا جائے گا اجلاس میں بجٹ پر بحث ہوگی اور رواں سیشن میں آئندہ مالی سال 2022-23 کے بجٹ کی منظوری دی جائے گی۔دوسری جانب آئندہ مالی سال کیلئے ترقیاتی بجٹ 2184 ارب روپے رکھنے کی تجویز دے دی گئی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں