کیا پی ٹی آئی کو بلے کا نشان مل پائے گا ؟

0
86

ہاٹ لائن نیوز : لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کا انتخابی نشان بلا واپس لینے اور انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف درخواستوں کے قابل سماعت ہونے کے بارے میں فیصلہ محفوظ کر لیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے پی ٹی ائی کے عمر افتاب ڈھلوں کی درخواست پر سماعت کی جس میں انتخابی نشان واپس لینے اور انٹر پارٹی الیکشن کو کالعدم قرار دینے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا ، سماعت کے دوران عدالت نے باور کرایا کہ سپریم کورٹ میں 6 درخواستیں زیر سماعت ہیں اور دوبارہ پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیوں نہیں کیا ۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کس قانون کی خلاف ورزی پر آپ یہاں آئے ، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بادی النظر میں الیکشن کمیشن کو انتخابی نشان منسوخ کرنے کا اختیار ہے۔

جسٹس جواد حسن نےباور کرایا کہ چیف جسٹس پاکستان کہتے ہیں آئین اور قانون کو دیکھ کر فیصلہ کریں ، آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرنے سے منع نہیں کیا گیا ،عدالت نے قرار دیا کہ فاضل چیف جسٹس کی منشاء ہے کہ انتخابات میں التواء نہ ہو ۔

درخواست گزار کے مطابق بلے کا نشان واپس لینے کے فیصلے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے اور پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کا ارڈر معطل کر دیا ۔

وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ ار او کو وضاحت دینی پڑ رہی ہے کہ تحریک انصاف سے ہیں ۔

وکیل درخواست گزار کے مطابق صوبائی الیکشن کمیشن سے رجوع کیا لیکن دادرسی نہ کی گئی۔

Leave a reply