10

کیا عامر لیاقت کو واقعی 25کروڑ کیلئے قتل کیا گیا۔۔ دانیہ شاہ کی والدہ نے اچانک کونسا انکشاف کر دیا؟

کراچی(نیوز ڈیسک)معروف اینکر اور رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین کی خوشدامن نے انتقال کو نیا رنگ دیدیا۔سندھ ہائی کورٹ میں دانیہ شاہ کی والدہ نے میڈیا کو بتایا کہ عامر لیاقت کو کہیں سے 25 کروڑ روپے ملے تھے، وہ اسلام آباد سے کراچی پیسے لینے آیا تھا۔ ایک بجے وہ واپس اسلام آباد جارہا تھا۔ دس منٹ بعد اس کی موت کیسے ہوگئی؟
انہوں نے کہا کہ عامر لیاقت کے پاس 25 کروڑ روپے تھے، اس کی گواہ بیوی ہے۔ ہم عدالت میں شواہد پیش کریں گے۔ عامر لیاقت کی موت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ یہ لوگ عامر لیاقت کی موت کو چھپا رہے ہیں۔ ہم عدالت آگئے ہیں اور عدالت ہی انصاف دے گی۔اس سے قبل سندھ ہائی کورٹ میں دانیہ شاہ نے عامر لیاقت حسین کا پوسٹ مارٹم کرانے کی استدعا کی۔ عدالت نے دانیہ شاہ کو فریق بنانے کی استدعا منظورکرتے ہوئے تمام فریقین کو تیاری کرنے کا حکم دیدیا۔اس موقع پر عامر لیاقت کے اہلخانہ کے وکیل ضیا اعوان ایڈوکیٹ نے موقف دیا کہ معائنے کے دوران معلوم ہوا کہ کوئی زخم نہیں ہے۔ بیٹا اور بیٹی پوسٹ مارٹم نہیں کروانا چاہتے۔جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے کہ بیٹا، بیٹی کیوں پوسٹ مارٹم پر اعتراض کر رہے ہیں؟ پوسٹ مارٹم کے بغیر کیسے پتہ چلے گا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہوگا۔ قانون میں کسی کی مرضی نہیں چلتی۔ضیا اعوان ایڈوکیٹ نے موقف اپنایا کہ بے نظیر بھٹو شہید کا بھی پوسٹ مارٹم نہیں کرایا گیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آج تک سب افسوس کررہے ہیں محترمہ کا پوسٹ مارٹم نہ کرانے پر۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس میں کہا کہ کئی کتابیں لکھ دی گئیں پوسٹ مارٹم نہ کرانے پر۔ اگر بے نظیر بھٹو شہید کا پوسٹ مارٹم ہو جاتا تو بہتر نہ ہوتا۔جسٹس مسز کوثر سلطانہ حسین نے ریمارکس دیئے کہ محترمہ کا پوسٹ مارٹم نہیں ہوا تو پورے ملک کا پوسٹ مارٹم کردیا گیا۔ آپ پوسٹ مارٹم نہ کرنے پر اصرار کس قانون کے تحت کر رہے ہیں۔اس موقع پر دانیہ شاہ کی والدہ نے کہا کہ میں عامر لیاقت حسین کی ساس ہوں۔ عامر لیاقت کی بیوی حق رکھتی ہے کہ وجہ موت پتا چلے۔ میری بیٹی عامر لیاقت کی اہلیہ تھی۔ عامر لیاقت اتنی بڑی شخصیت تھی، وجہ موت پتہ چلنا چاہیے۔عدالت نے دانیہ شاہ کو فریق بنانے کی استدعا منظور کرلی۔ عدالت نے تمام فریقین کو تیاری کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سب کو سنیں گے، جلدی میں کوئی فیصلہ نہیں کریں گے۔ عدالت نے سماعت 28 جولائی کے لیے ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں