پولیس کی جلدبازیاں گلے پڑ گئی

0
103

لاہور: (ہاٹ لائن نیوز) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق ندیم کی جانب سے بڑا فیصلہ آ گیا ۔

پولیس کی جانب سے ملزمان کی گرفتاری کے وقت پروسیجر اختیار نہ کرنے پر جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دے دیا گیا ۔

جسٹس طارق ندیم نے پروسیجر کے مطابق ریمانڈ پیپر تیار نہ کرنے پر ڈی پی او بہاولپور ایس ایچ او اور تفتیشی پر پانچ روز میں مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا ۔

جسٹس طارق ندیم نے 9 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

عدالت نے کس بھی ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کے لیے نئے اصول وضح کردئیے۔ملزم کے جسمانی ریمانڈ کے لیے ضمنی میں صفحے کے آخر پر سیریل نمبر اور ایف آئی آر نمبر درج ہونا چاہیے ، فیصلہ کے مطابق ملزم کے خلاف کیس دائری باقاعدہ رجسٹرڈ ہو ، جس پر متعلقہ ایس ایچ او کے دستخط ہوں ، ملزم کے خلاف ایف آئی آر پر بھی سیریل نمبر درج ہوں اور روزنامچہ میں بھی اسی روز اندارج ہو ۔

فیصلہ کے مطابق پولیس رولز میں دی گئیں ہدایت کے مطابق ریمانڈ پیپر تیار کیا جائے ، چالان پر بھی سیریل نمبر کا اندراج لازم ہونا چاہیے ، جسٹس طارق ندیم نے پولیس ،اینٹی کرپشن ،ایف آئی اے کو احکامات جاری کردئیے ۔

عدالتی فیصلے کی کاپی آئی جی ،اینٹی کرپشن ،ایف آئی اے کو بھجوانے کا حکم دیا گیا ، تمام ادارے تین ماہ میں عدالتی حکم میں دی گئی ہدایت پر عملدرآمد یقینی بنائیں ۔

نسرین بی بی نے بیٹے محمد سلیم کی گرفتاری کے خلاف درخواست دائر کی تھی ، عدالتی حکم پر بہاولپور پولیس نے رپورٹ جمع کرائی ۔

پولیس رپورٹ کے مطابق محمد سلیم اور علی رضا کو 28 اگست کو گرفتار کیا گیا تھا ، پولیس نے ملزمان کا علاقہ مجسٹریٹ سے جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کیا ، درخواست گزار نے 6ستمبر کو درخواست دائر کی اور 7ستمںر کو سماعت ہوئی ۔

فیصلے میں لکھا گیا کہ پولیس نے سات ستمبر کو ملزمان کی گرفتاری ظاہر کی ، ایف آئی ار میں درخواست گزار کا بیٹا نامزد نہیں تھا بلکہ اسے ضمنی بیانات میں نامزد کیا گیا ، عدالتی نقط نظر کے مطابق صرف شہری کی غیر قانونی حراست کو درست ثابت کرنے کےلیے ضمنی بیانات میں گرفتاری ڈالی گئی ۔

پولیس کی عام پریکٹس یہ ہے کہ ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد اگلے روز عدالت پیش کیا جاتا ہے ۔موجودہ کیس میں پولیس نے اسی روز ملزمان کو علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو پیش کر کے ریمانڈ لیا ۔

اسی نوعیت کے ایک اور کیس میں عدالت پولیس کو ہدایت دی تھی کہ جوڈیشل مجسٹریٹ اور تفتیشی افسر نے عدالتی ہدایات پر عمل درآمد نہیں کیا ، موجودہ کیس کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود پولیس نے مینول روزنامچے میں تفصیل بال پوائنٹ کی بجائے کچی پینسل سے درج کیں ۔

کیس ڈائری کے پرنٹس بھی مختلف رنگوں میں ہیں جو کہ پولیس رولز 25٫24 کی خلاف ورزی ہےقانون کے مطابق کرسٹل کلئیر ہے کہ کیس ڈائری لکھتے وقت نمبرنگ اور ہر صفحے پر پولیس کی اسٹیمپ ہونی چاہیے ۔تفتیشی افسر دو کاربن کاپی بھی بنانے کا پابند ہوتا ہے ۔موجودہ کیس میں تفتیشی نے ریمانڈ پیپر پر گرفتاری کی تاریخ اور وقت درج ہی نہیں کیا ۔

جوڈیشل مجسٹریٹ نے حقائق کے بغیر ہی ملزمان کا ریمانڈ دے دیا ،ملزم علی رضا اور محمد سلیم کے جسمانی ریمانڈ دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے ،ملزم محمد سلیم کے خلاف شواہد نہ ہونے پر مقدمے سے ڈسچارج کیا جاتا ہے شریک ملزم علی رضا کو حفاظتی ضمانت دی جاتی ہے۔

Leave a reply