پاکستان ریلوے میں بڑی پیش رفت: 155 اسٹیشن شمسی توانائی پر منتقل

0
127
پاکستان ریلوے میں بڑی پیش رفت: 155 اسٹیشن شمسی توانائی پر منتقل

پاکستان ریلوے میں جدید خطوط پر اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اجلاس میں محکمے کی ڈیجیٹل اور انتظامی ترقی سے متعلق جامع بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ریلوے کی ڈیجیٹائزیشن کے تحت 7 ڈیجیٹل پورٹل فعال ہیں جبکہ 54 ریلوے اسٹیشنوں کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے۔ کراچی، لاہور، راولپنڈی اور فیصل آباد اسٹیشنوں پر مفت وائی فائی فراہم کیا جا چکا ہے اور مزید 48 اسٹیشنوں پر رواں سال 31 دسمبر تک یہ سہولت دستیاب ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ 56 ٹرینوں کو ’’رابطہ‘‘ سسٹم پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ کراچی سٹی اسٹیشن سے ڈیجیٹل ویہنگ برج کا پائلٹ پروجیکٹ شروع ہوا ہے جسے پپری، کراچی چھاؤنی، پورٹ قاسم، لاہور اور راولپنڈی تک توسیع دی جائے گی۔ راولپنڈی اسٹیشن پر جدید اے آئی سے چلنے والے 148 سیکیورٹی کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں جبکہ مختلف اسٹیشنوں پر بینکوں کے اے ٹی ایم بھی لگائے جا رہے ہیں۔

ریلوے اسٹیشنز کی صفائی ستھرائی، انتظار گاہوں کے معیار میں بہتری اور فوڈ اتھارٹیز کی رسائی بھی مجموعی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے جاری اقدامات کا حصہ ہے۔

آؤٹ سورسنگ پالیسی کے تحت 4 ٹرینیں نجی شعبے کے حوالے کی جا چکی ہیں جبکہ مزید 11 ٹرینیں جلد آؤٹ سورس کی جائیں گی۔ اس اقدام سے 8.5 ارب روپے کا اضافی ریونیو متوقع ہے۔ 40 لگیج اور بریک وینز کی آؤٹ سورسنگ سے بھی خاطر خواہ آمدنی حاصل ہونے کی امید ہے۔ اسی طرح ریلوے کے اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور ریسٹ ہاؤسز کی آؤٹ سورسنگ پر بھی کام جاری ہے۔

توانائی کے شعبے میں اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے 155 ریلوے اسٹیشنز کو شمسی توانائی پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ مین لائن ون کے کراچی–کوٹری سیکشن اور مین لائن تھری کی اپ گریڈیشن پر حکمتِ عملی تیار کی جا رہی ہے جبکہ تھر ریل کنیکٹیویٹی منصوبے پر حکومتِ سندھ کے ساتھ اشتراک جاری ہے۔

علاوہ ازیں اسلام آباد–تہران–استنبول ٹرین کے جلد آغاز اور قازقستان–ازبکستان–افغانستان–پاکستان ریلوے رابطے کے منصوبے پر ابتدائی پیش رفت سے بھی وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا۔

وزیراعظم نے ریلوے نظام کی بہتری کے لیے جاری اقدامات کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ مستقبل کے منصوبوں میں قانونی و معاشی ماہرین کی معاونت حاصل کی جائے اور ریلوے کی زمین و جائیداد کے بہتر استعمال کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل اپنایا جائے۔

Leave a reply