ناظم جوکھیوقتل کیس، انسداددہشت گردی عدالت کا فیصلہ سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج 37

ناظم جوکھیوقتل کیس، انسداددہشت گردی عدالت کا فیصلہ سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج

سندھ ہائیکورٹ میں ناظم جوکھیوقتل کیس کا انسداددہشت گردی عدالت کا فیصلہ چیلنج کردیا گیا ہے۔

فیصلےکے خلاف کیس کےگواہ مظہرجونیجوایڈووکیٹ نے درخواست دائر کی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے مقدمہ سیشن عدالت میں منتقل کرنے کا حکم دیا تھا تاہم انسداددہشت گردی عدالت نے حقائق کونظراندازکیا ہے۔

درخواست میں بتایا گیا کہ مدعی مقدمہ بھی ملزمان کےساتھ مل گیاہے۔ ناظم جوکھیو کو تشدد کرکے قتل کیا گیا اور اس قتل سے خوف وہراس پھیلا ہے۔

درخواست گزار نے مزید بتایا کہ ملزم اراکین اسمبلی اور بہت با اثرہیں،یہ قتل کیس واپس انسداد دہشت گردی عدالت میں منتقل کیاجائے اوراس کیس میں دہشت گردی کی دفعات دوبارہ شامل کی جائیں۔

درخواست میں جام عبدالکریم اور جام اویس کوملزم نامزدکرنے کی استدعا بھی کی ہے۔

اس کے علاوہ جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر نے ناظم جوکھیو قتل کیس میں چالان منظوری سے متعلق فریقین کے وکلاء کے دلائل مکمل کرلئے۔

عدالت نے کیس کے چالان سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا جو 2 جولائی کو سنایا جائے گا۔

پولیس نےعدالتی حکم پر کیس میں سے دہشت گردی کی دفعات ختم کردی تھیں۔

پولیس نے رکن قومی اسمبلی جام عبدالکریم، رکن سندھ اسمبلی جام اویس کے نام کیس سے خارج کرنے کی سفارش کی ہے۔ پولیس نے 13 ملزمان کے نام کیس سے خارج کرنے کی سفارش کی ہے۔

ناظم جوکھیو کو نومبر 2021 میں تشدد کرکے قتل کردیا گیا تھا اور قتل کا مقدمہ ملیر میمن گوٹھ تھانے میں درج ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں