نئی دہلی کی ایک عدالت نے یاسین ملک کو جھوٹے مقدمے میں مجرم قرار دے دیا 71

نئی دہلی کی ایک عدالت نے یاسین ملک کو جھوٹے مقدمے میں مجرم قرار دے دیا

نئی دہلی: نئی دہلی کی ایک عدالت نے حریت رہنما یاسین ملک کو جھوٹے مقدمے میں مجرم قرار دے دیا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق کشمیری حریت رہنماؤں کے خلاف سیاسی انتقام پر مبنی تازہ کارروائی میں نئی دہلی میں بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی ایک عدالت نے آج غیر قانونی طور پر نظر بند جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو ان کے خلاف درج ایک جھوٹے مقدمے میں مجرم قرار دے دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق این آئی اے کی عدالت کے خصوصی جج پروین سنگھ نے حکام کو یاسین ملک کی مالی حالت کا جائزہ لینے کی ہدایت کی تاکہ ان پر عائد کئے جانے والے جرمانے کی رقم کا تعین کیا جاسکے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یاسین ملک کی سزا سے متعلق عدالت 25 مئی کو سماعت کرے گی۔

اس سے قبل جے کے ایل ایف کے چیئرمین نے اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے اور بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے سمیت تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت ان کے خلاف لگائے گئے جھوٹے الزامات کوچیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ کہ قبل ازیں عدالت نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، نعیم احمد خان، فاروق احمد ڈار، سید صلاح الدین، ایڈووکیٹ شاہد الاسلام، الطاف احمد شاہ، ایاز محمد اکبر، راجہ معراج الدین کلوال ، پیر سیف اللہ اور تاجر ظہور احمد وٹالی اوردیگر کے خلاف بھی باضابطہ طور پرفرد جرم عائد کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں